کیا شاہ رخ خان کو مستفیض الرحمان پر خرچ کی گئی رقم واپس ملے گی؟

مستفیض الرحمان کا متبادل تلاش کرنا آسان نہیں ہوگا۔
شائع 04 جنوری 2026 02:06pm

آئی پی ایل 2026 کے آغاز سے قبل کولکتہ نائٹ رائیڈرز( کے کے آر) ایک غیر معمولی صورتحال سے دوچار ہو گئی ہے۔ ٹیم نے حالیہ آئی پی ایل نیلامی میں بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو 9.20 کروڑ روپے میں خریدا تھا، لیکن اب بی سی سی آئی کی ہدایت پر انہیں ٹیم سے ریلیز کرنا پڑ رہا ہے۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ذرائع کے مطابق بی سی سی آئی نے سفارتی اور سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل کھیلنے کی اجازت نہیں دی، جس کے بعد کے کے آر کو انہیں اسکواڈ سے نکالنا پڑا۔

عام طور پر آئی پی ایل نیلامی کے قوانین کے مطابق کسی کھلاڑی کو خریدنے کے بعد فرنچائز کی رقم لاک ہو جاتی ہے۔ تاہم مستفیض الرحمان کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ ان کی رہائی کسی چوٹ یا ذاتی فیصلے کی وجہ سے نہیں بلکہ سفارتی اور سیکیورٹی معاملات کے سبب بی سی سی آئی کے حکم پر کی جا رہی ہے۔

آئی پی ایل کے آپریشنل قوانین کے مطابق اگر کسی کھلاڑی کو غیر کرکٹ وجوہات کی بنیاد پر بی سی سی آئی کے حکم سے ہٹایا جائے تو متعلقہ فرنچائز کو اس کھلاڑی پر خرچ کی گئی پوری رقم واپس ملنے کا حق ہوتا ہے۔ اس اصول کے تحت کے کے آر کو مستفیض الرحمان پر خرچ کی گئی 9.20 کروڑ روپے کی مکمل رقم دوبارہ اپنے پرس میں ملنے کا امکان ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ قانونی طور پر ’فورس میجور‘ کے زمرے میں آتا ہے، یعنی ایسا غیر معمولی واقعہ جو کسی فریق کے اختیار میں نہ ہو۔ اس صورت میں فرنچائز کھلاڑی سے معاہدہ پورا کرنے کی پابند نہیں ہوتی۔ چونکہ مستفیض کی رہائی بی سی سی آئی کے حکم پر ہوئی، اس لیے کے کے آر پر کوئی قانونی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔

رقم کی واپسی کے بعد کے کے آر کو رجسٹرڈ اویلیبل پلیئر پول (آر اے پی پی) یا متبادل ڈرافٹ کے ذریعے نیا غیر ملکی فاسٹ بولر خریدنے کی اجازت ہوگی اور وہ بھی بغیر کسی مالی نقصان کے۔

بی سی سی آئی کے سیکریٹری دیواجیت سائیکیا نے اشارہ دیا ہے کہ فرنچائز کو متبادل کھلاڑی منتخب کرنے کی مکمل آزادی دی جائے گی، اگرچہ رقم کی واپسی کے وقت کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

اگرچہ کے کے آر کو مالی ریلیف ملنے کی امید ہے، لیکن مستفیض الرحمان جیسے تجربہ کار ڈیتھ اوور اسپیشلسٹ کا متبادل تلاش کرنا آسان نہیں ہوگا۔ ٹیم مینجمنٹ کے لیے اب سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ محدود وقت میں اسی معیار کا غیر ملکی بولر تلاش کیا جائے۔

IPL

kkr

REFUND

mustafizur rahman

9.20 Crore