کیا امریکا دنیا پر اپنا تسلط چاہتا ہے؟
دنیا آج ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں طاقت، مفاد اور جبر عام ہو رہا ہے اور اس پر کھل کر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ وینزویلا کے حالیہ واقعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ امریکا دنیا میں اپنی حکمرانی قائم رکھنے کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہے۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری اور انہیں اہلیہ سمیت امریکا لے جایا جانا صرف ایک سیاسی کارروائی نہیں، بلکہ ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی سطح پر امریکا کی طاقت، اقتصادی مفادات اور جبر کو نمایاں کرتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مادورو کے اغوا کے بعد اعلان کیا کہ امریکا وینزویلا کا انتظام سنبھالے گا جب تک وہاں ایک محفوظ سیاسی حکومت کی منتقلی نہیں ہو جاتی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا وینزویلا میں اپنی مرضی کی حکومت چاہتا ہے۔
واشنگٹن کے مطابق یہ کارروائی منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی کے خلاف تھی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے پیچھے وینزویلا کے وسیع تیل کے ذخائر ہیں، جو دنیا میں سب سے بڑے ہیں۔ امریکی حکام نے واضح طور پر کہا کہ امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا کے تیل کے انفراسٹرکچر کو دوبارہ فعال اور کنٹرول کریں گی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کارروائی صرف سیاسی یا قانونی اقدام نہیں بلکہ اقتصادی اور جغرافیائی مفادات کے لیے ایک جارحانہ حکمتِ عملی تھی۔
صدر مادورو کے خلاف امریکی کارروائی صرف وینزویلا تک محدود نہیں۔ امریکا نے لاطینی امریکا میں ماضی میں بھی متعدد فوجی مداخلتیں کی ہیں، جیسے پاناما میں جنرل نوریگا کی گرفتاری اور مشرقِ وسطیٰ میں طویل جنگیں، اور ہر بار یہ اقدام جمہوری اقدار یا سیکیورٹی خدشات کے جواز میں پیش کیا گیا۔ لیکن حقیقی مقصد ہمیشہ طاقت کے ذریعے دنیا پر اثر ڈالنا اور وسائل پر قبضہ کرنا رہا ہے۔ وینزویلا کی موجودہ صورتِ حال اسی تسلسل کی ایک تازہ مثال ہے۔

امریکا کا عالمی تسلط صرف فوجی مداخلت تک محدود نہیں۔ یورپ میں نیٹو کے ذریعے روس کے اثر کو محدود کرنا، مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کے وسائل پر کنٹرول قائم رکھنا اور ایشیا میں چین کے بڑھتے اثر کے خلاف اقدامات اٹھانا اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا دنیا کے ہر خطے میں اپنی قیادت اور اثر قائم رکھنا چاہتا ہے۔
امریکا نہ صرف فوجی اور سیاسی طاقت استعمال کرتا ہے بلکہ معاشی اور مالیاتی دباؤ کے ذریعے بھی اپنی حکمرانی کو مضبوط کرتا ہے۔ ڈالر کی عالمی حیثیت، بین الاقوامی تجارتی پابندیاں اور مالیاتی دباؤ امریکا کے لیے طاقتور ہتھیار ہیں۔
امریکا کی جانب سے ایران، روس اور وینزویلا پر لگائی گئی پابندیاں نہ صرف ان ممالک کی معیشت متاثر کرتی ہیں بلکہ انہیں اپنی پالیسی بدلنے پر مجبوربھی کرتی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک اس اثر و رسوخ کے زیرِ اثر اپنے سیاسی اور اقتصادی فیصلوں میں محدود رہتے ہیں۔
یہاں یہ بھی اہم ہے کہ امریکا اپنی مضبوط طاقت کے ذریعے ہی نہیں بلکہ ثقافتی اور بعض اوقات ’نرم طاقت‘ کے ذریعے بھی دنیا پر اثر ڈالتا ہے۔ ہالی وڈ، امریکی موسیقی، فیشن، سوشل میڈیا اورتعلیم کے ذریعے امریکی اقدار اور طرزِ زندگی دنیا بھر میں مقبول ہیں۔ لوگ یہ سیکھتے ہیں کہ ترقی، آزادی اور کامیابی کے معیار امریکی نظام اور سوچ کے مطابق ہیں۔ یہ نرم طاقت ایک خاموش مگر مؤثر طریقہ ہے جس سے امریکا اپنے اثر کو بڑھاتا اور دنیا کے ذہنوں پر حکمرانی قائم کرتا ہے۔

وینزویلا کے حالیہ واقعات، یورپ میں فوجی قیادت، مشرق وسطیٰ میں توانائی کے وسائل پر کنٹرول، اور پاکستان جیسے ممالک پر اثر و رسوخ سب یہ واضح کرتے ہیں کہ امریکا دنیا میں اپنی حکمرانی قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
امریکی حکمتِ عملی کو اکثر عالمی امن اور استحکام کے لیے جواز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن عملی طور پر یہ اقدامات اکثر دوسرے ممالک کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔ امریکا نہ صرف عالمی فیصلوں میں اثر ڈال رہا ہے بلکہ اس کے اقدامات دنیا کے وسائل، معیشت اور سیاسی منظرنامے پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
وینزویلا کی مثال نے یہ بھی واضح کر دیا کہ امریکا کے اقدامات کسی ایک ملک تک محدود نہیں ہیں، بلکہ وہ اپنی حکمتِ عملی کے ذریعے دنیا کے ہر خطے میں اپنی مرضی نافذ کرنا چاہتا ہے۔ یہ تسلط صرف فوجی یا معاشی طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ سیاسی دباؤ، معاشی پابندیوں اور ثقافتی اثر کے امتزاج کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔
آخر میں یہ سوال باقی رہتا ہے کہ کیا امریکا کی یہ حکمتِ عملی واقعی عالمی امن اور استحکام کے لیے ہے؟ یا یہ دنیا پر اپنی مرضی نافذ کرنے اور تسلط قائم کرنے کی ایک مسلسل کوشش ہے؟
وینزویلا کے حالیہ واقعات سے نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ امریکی اقدام دنیا کے لیے ایک انتباہ ہے، کہ طاقتور ممالک کے مفادات کے لیے عام ممالک کی خودمختاری اور قانونی حدود کی کوئی حیثیت نہیں۔ امریکا کا عالمی تسلط صرف نظریہ نہیں، بلکہ عملی حقیقت ہے جو ہر سطح پر محسوس کی جا سکتی ہے۔
نوٹ: مصنف کی آرا سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

















