ٹرمپ نے وینزویلا کو چلانے کے لیے مادورو کی ساتھی کی حمایت کیوں کی؟
امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی ایک سابقہ خفیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اقتدار سے محروم ہو جاتے ہیں تو ان کے قریبی اور وفادار رہنما، جن میں نائب صدر ڈیلسی روڈریگز بھی شامل ہیں، ملک میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے سب سے مضبوط پوزیشن میں ہوں گے۔
خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے پیر کو اس معاملے سے آگاہ دو ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس خفیہ تجزیے پر بریفنگ دی گئی تھی اور یہ رپورٹ ان کی قومی سلامتی کی ٹیم کے چند سینئر ارکان کے ساتھ بھی شیئر کی گئی۔
رپورٹ میں وینزویلا کی اندرونی سیاسی صورتحال، طاقت کے توازن اور ممکنہ قیادت کے کرداروں کا جائزہ لیا گیا تھا، اس جائزے کا مقصد یہ سمجھنا تھا کہ اقتدار میں تبدیلی کی صورت میں ملک کو کس طرح سیاسی اور انتظامی استحکام دیا جا سکتا ہے۔
اسی تجزیے کو صدر ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو کے بجائے نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کی حمایت کی وجہ قرار دیا جارہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کے نزدیک مادورو کے قریبی حلقے کے کچھ افراد نظام کو چلانے اور کسی بڑے انتشار سے بچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ کی باضابطہ طور پر تصدیق نہیں کی۔ تاہم وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ کو دنیا بھر کے ممالک کی داخلی سیاسی صورتحال سے متعلق باقاعدگی سے بریفنگ دی جاتی ہے۔
ان کے مطابق صدر اور ان کی قومی سلامتی کی ٹیم وینزویلا کے حوالے سے حقیقت پسندانہ فیصلے کر رہی ہے تاکہ یہ ملک امریکہ کے مفادات سے ہم آہنگ ہو سکے اور وینزویلا کے عوام کے لیے ایک بہتر مستقبل کی راہ ہموار ہو۔











