نیپال میں مسجد پر حملے کے بعد حالات کشیدہ، کرفیو نافذ

ٹک ٹاک پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں مبینہ طور پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا مواد شامل تھا
شائع 07 جنوری 2026 08:59am

نیپال کے جنوبی سرحدی شہر بیَرگنج میں ایک مسجد پر حملے کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے ہیں، جس کے پیش نظر مقامی انتظامیہ نے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق شہر میں کسی بھی قسم کے اجتماع، احتجاج یا مظاہرے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور شہریوں کو سڑکوں پر نکلنے سے روک دیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ٹک ٹاک پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں مبینہ طور پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا مواد شامل تھا۔

پولیس نے مقامی افراد کی مدد سے ویڈیو بنانے والے دو نوجوانوں کو حراست میں لے کر معاملے پر قابو پانے کی کوشش کی، تاہم اس کے باوجود ایک مسجد میں توڑ پھوڑ کا واقعہ پیش آیا۔

مسجد کی بے حرمتی کی خبر پھیلتے ہی علاقے کی مسلم برادری میں شدید غم و غصہ پیدا ہوا اور احتجاج شروع ہو گیا۔

مسلمانوں کے احتجاج کے ردعمل میں ہندو آبادی کے افراد بھی سڑکوں پر نکل آئے، جس کے بعد دونوں جانب سے مظاہرے ہونے لگے۔

احتجاج کے دوران ٹائر جلائے گئے، سڑکیں بند کی گئیں اور نعرے بازی کی گئی۔

صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا اور متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا۔

جھڑپوں کے دوران چند پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، تاہم کسی بڑے جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔

پارسا ضلع انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کرفیو کے دوران کسی کو بھی گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

سیکیورٹی خدشات کے باعث مسلح فوجی اور پولیس اہلکار شہر کی سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں۔

بیَرگنج نیپال کا ایک اہم سرحدی شہر ہے جو بھارت سے تیل، اشیائے خورونوش اور دیگر سامان کی درآمد کے لیے مرکزی راستہ سمجھا جاتا ہے۔

حکام کے مطابق اتوار سے شروع ہونے والے مظاہرے اب تک جاری ہیں، تاہم دونوں مذہبی گروہوں کے درمیان کوئی بڑا تصادم رپورٹ نہیں ہوا اور صرف ہلکی جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

نیپال ایک اکثریتی ہندو ملک ہے جہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اس نوعیت کی کشیدگی شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتی ہے۔

ملک میں مسلم آبادی زیادہ تر جنوبی سرحدی علاقوں میں رہتی ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ مقامی رہنماؤں اور عمائدین سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کریں۔

Nepal

curfew

Communal Rites

Birgunj