اینٹی بایوٹک کورس کے بعد بھی انفیکشن بار بار کیوں لوٹ آتا ہے؟
اکثر لوگ اینٹی بایوٹک کا پورا کورس مکمل کرنے کے باوجود انفیکشن کے دوبارہ ہونے پر پریشان رہتے ہیں۔ خاص طور پر سردیوں میں نزلہ، کھانسی یا دیگر بیکٹیریل انفیکشن بار بار لوٹ آنا ایک عام مسئلہ بن چکا ہے۔ ایک نئی تحقیق نے اس کی ایک اہم وجہ بتائی ہے۔
تحقیق کے مطابق ہر بار انفیکشن واپس آنے کی وجہ اینٹی بایوٹک کے خلاف مزاحمت نہیں ہوتی، بلکہ کچھ بیکٹیریا عارضی طور پر خود کو غیر فعال کر کے اینٹی بایوٹک سے بچ جاتے ہیں۔
اینٹی بایوٹک عام طور پر متحرک اور بڑھتے ہوئے بیکٹیریا کو ختم کرتی ہیں، لیکن یہ چھپ جانے والے بیکٹیریا دوا کے اثر سے محفوظ رہ جاتے ہیں اور بعد میں دوبارہ بڑھ کر انفیکشن پیدا کر دیتے ہیں۔
سائنس ایڈوانسز میں شائع ہونے والی اس تحقیق کی قیادت پروفیسر نیتھالی بالابان اور پی ایچ ڈی طالب علم آدی روٹم نے کی۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ بیکٹیریا اینٹی بایوٹک کے دوران دو مختلف انداز میں “شٹ ڈاؤن” ہوتے ہیں.
بیکٹیریا اپنی نشوونما روک کر سست حالت میں چلے جاتے ہیں۔ اس دوران دوا ان پر اثر نہیں کر پاتی۔ یہ حالت اکثر بار بار ہونے والے انفیکشنز یا میڈیکل امپلانٹس پر بننے والے بیکٹیریا میں دیکھی جاتی ہے۔
کچھ بیکٹیریا اپنی مرضی سے سست نہیں ہوتے بلکہ خلیات کے نظام میں خلل آ جاتا ہے۔ اس کے باوجود وہ اینٹی بایوٹک سے بچ جاتے ہیں۔ یہ بچاؤ کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں بلکہ دباؤ کے باعث پیدا ہونے والا عمل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی دو مختلف طریقے پچھلی تحقیقات میں تضاد کی وجہ بنے ہیں۔
اگر بیکٹیریا منظم غیر فعال حالت میں ہوں تو ایسے علاج استعمال کیے جا سکتے ہیں جو پہلے انہیں دوبارہ متحرک کریں اور پھر دوا کے ذریعے ختم کریں۔
بے ترتیب حالت والے بیکٹیریا کو ان کی کمزور جھلیوں کو نشانہ بنا کر ختم کیا جا سکتا ہے۔
اس طرح نہ صرف بار بار انفیکشن کم ہو سکتے ہیں بلکہ مستقبل میں ذاتی نوعیت کے علاج بھی ممکن ہوں گے، جہاں یہ معلوم کیا جا سکے کہ مریض کے بیکٹیریا کس حالت میں ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ اینٹی بایوٹک کے ناکام ہونے کو ہمیشہ مزاحمت سمجھنا درست نہیں۔ بعض اوقات اصل مسئلہ بیکٹیریا کا چھپ جانا ہوتا ہے۔
اگر مستقبل میں ایسے علاج سامنے آئیں جو دونوں قسم کے بیکٹیریا کو ختم کر سکیں تو انفیکشن کی بار بار واپسی میں کمی اور اینٹی بایوٹک کی تاثیر میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
















