بے وفائی کرتے ہوئے پکڑے جانے والے شوہر نے ریسٹورنٹ پر مقدمہ کردیا
تصور کریں: صرف 30 سیکنڈ کی ایک چھوٹی سی ویڈیو اتنی طاقت رکھتی ہے کہ کسی کی شادی کو تباہ کر دے۔
آج کے سوشل میڈیا اور مارکیٹنگ کے دور میں یہ حقیقت دیکھنے کو مل رہی ہے، جہاں چھوٹی سی پروموشنل کلپ بھی کسی کی ذاتی زندگی میں ہلچل مچا سکتی ہے۔
ایسا ہی ایک دلچسپ کیس اٹلی میں سامنے آیا ہے، جہاں ایک 42 سالہ شہری نے ریستوران کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی۔
معاملہ اس وقت پیچیدہ ہو گیا جب ریستوران کی جانب سے بنائی گئی ایک پروموشنل ٹک ٹاک ویڈیو میں اسے بغیر اجازت دکھایا گیا۔
اس ویڈیو کو دیکھ کر اس کی بیوی نے شوہر کے چھپے ہوئے تعلقات کا راز جان لیا اور نتیجتاً شادی کے رشتے پر گہرا دھچکا لگا۔ بیوی نے شوہر کو گھر سے نکال دیا۔
ویڈیو میں مرد کو ایک دوسرے عورت کے ساتھ دیکھا گیا، حالانکہ اس نے اپنی بیوی کو بتایا تھا کہ وہ کاروباری ڈنر پر گیا ہے۔
اگرچہ ویڈیو کی یہ کلپ ریستوران کے پروموشن کے لیے بنائی گئی تھی، مگر اس نے اس کے نجی اور ازدواجی تعلقات پر تباہ کن اثر ڈال دیا۔ بعض رپورٹس کے مطابق بیوی نے ویڈیو خود دیکھی، جبکہ کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی اور نے یہ ویڈیو بھیجی۔
شوہر نے ریستوران کے مالکوں کے خلاف نجی زندگی کی خلاف ورزی کے الزام میں مقدمہ دائر کیا۔
اٹلی کی صارف تحفظ تنظیم Codacons نے اس کیس کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا:”کسی بھی صارف یا گاہک کو اجازت کے بغیر ویڈیو یا تصاویر میں دکھانا ناقابل قبول ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف قانونی مسائل پیدا کرتے ہیں بلکہ انسانی رشتوں اور زندگی پر بھی سنگین اثر ڈال سکتے ہیں۔“
Codacons نے ریستوران سے مالی نقصان کی تلافی اور اٹلی کے ڈیٹا پروٹیکشن حکام کو بھی اطلاع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
کچھ لوگ مذاق میں کہتے ہیں: ’شادی بچانے کے لیے وائی فائی بند کر دو یا ٹک ٹاک سے دور رہو۔‘
لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں ہر لمحہ عوامی نظر میں آ سکتا ہے۔
اگلی بار اگر آپ کسی ریسٹورنٹ میں جائیں اور کیمرے سامنے نظر آئیں، تو یاد رکھیں: یہ صرف انسٹاگرام پوسٹ کے لیے نہیں بلکہ آپ کی پرائیویسی کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
















