امریکہ: پورٹ لینڈ میں امریکی فیڈرل ایجنٹس کی فائرنگ سے 2 افراد زخمی

گاڑی روکنے کے دوران واقعہ پیش آیا، وفاقی امیگریشن کارروائیوں پر شدید ردعمل
اپ ڈیٹ 09 جنوری 2026 10:20am

امریکا کی ریاست اوریگن کے شہر پورٹ لینڈ میں امریکی بارڈر پیٹرول کے ایک اہلکار کی فائرنگ سے ایک مرد اور ایک خاتون زخمی ہو گئے۔

حکام کے مطابق امریکی بارڈر پیٹرول کے اہلکاروں نے جمعرات کی دوپہر پورٹ لینڈ میں ایک گاڑی کو مشتبہ بنیادوں پر روکنے کی کوشش کی۔ امریکی ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی کے بیان کے مطابق گاڑی کا ڈرائیور، جسے ایک وینزویلا گینگ کا مبینہ رکن قرار دیا گیا ہے، نے اپنی گاڑی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے اور اہلکاروں کو کچلنے کی کوشش کی۔

محکمے کے مطابق صورتحال کے پیش نظر ایک اہلکار نے دفاعی طور پر فائرنگ کی، جس کے بعد ڈرائیور اور اس کا ایک ساتھی موقع سے فرار ہو گئے۔ تاہم خبر رساں ادارے رائٹرز اس واقعے کے حالات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

پورٹ لینڈ پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ شہر کے مشرقی علاقے میں ایک طبی مرکز کے قریب پیش آیا۔ پولیس کے جائے وقوعہ پر پہنچنے کے تقریباً چھ منٹ بعد یہ معلوم ہوا کہ واقعے میں وفاقی اہلکار ملوث تھے۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد ایک مرد اور ایک خاتون، جو گولی لگنے سے زخمی تھے، تقریباً دو میل دور ایک مقام پر مدد کے لیے پہنچے۔

پولیس نے دونوں زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور انہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا، تاہم ان کی حالت کے بارے میں فوری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا۔

ادھر پورٹ لینڈ کے میئر کیتھ ولسن اور اوریگن کی گورنر ٹینا کوٹیک نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ انہیں تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ فائرنگ کا واقعہ کن وجوہات کی بنا پر پیش آیا یا آیا اس کا براہِ راست تعلق امیگریشن نفاذ سے تھا یا نہیں۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات ایف بی آئی کر رہی ہے اور اس دوران وفاقی امیگریشن کریک ڈاؤن کو عارضی طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔

یہ واقعہ ایک روز قبل منی ایپولس میں پیش آنے والے ایک اور واقعے کے بعد سامنے آیا، جہاں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے ایک اہلکار نے ایک 37 سالہ خاتون کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد منی ایپولس میں دو روز سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ملک بھر میں امیگریشن کے خلاف سخت کارروائیاں جاری ہیں، جن کے تحت بارڈر پیٹرول اور آئی سی ای کے اہلکار مختلف شہروں میں تعینات کیے گئے ہیں۔ جہاں صدر کے حامی ان اقدامات کی حمایت کر رہے ہیں، وہیں ڈیموکریٹ رہنماؤں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے ان کارروائیوں کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

us senate

shooting

federal agents

Portland