غیر ملکی قوتوں کے آلہ کاروں کے خلاف کارروائی ہوگی: خامنہ ای کا قوم سے خطاب

بیرونی مفادات کے لیے سرگرم عناصر کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا، آیت اللہ خامنہ ای
اپ ڈیٹ 09 جنوری 2026 09:42pm

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے تناظر میں خبردار کیا ہے کہ ایران غیر ملکی طاقتوں کے لیے کام کرنے والے عناصر کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے جمعے کے روز قوم سے ٹیلی وژن خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مظاہرین سرکاری املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور امریکی صدر کو خوش کرنے کے لیے یہ انتشار پھیلایا جا رہا ہے۔

انھوں نے خبردار کیا کہ تہران غیر ملکی طاقتوں کے لیے سرگرم آلہ کاروں کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔ قوم سے خطاب میں رہبرِ اعلیٰ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران لاکھوں معزز شہریوں کی قربانیوں سے قائم ہوا ہے اور یہ نظام تخریب کاروں کے سامنے ہرگز پیچھے نہیں ہٹے گا۔

آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ گزشتہ رات تہران اور دیگرشہروں میں لوگوں نے عمارتیں تباہ کیں، یہ تنصیبات ان کے اپنے ملک کی ہیں، انہوں نے یہ سب کچھ ٹرمپ کو خوش کرنے کے لئے کیا، سب جان لیں کہ ایران کبھی بلوائیوں کے سامنے نہیں جھکے گا۔

رہبر اعلیٰ نے مزید کہا کہ 12 دن کی جنگ میں ہمارے 1 ہزار سے زائد شہری شہید ہوئے، ٹرمپ نے کہا کہ اس نے جنگ کا حکم دیا تھا، ٹرمپ نے اعتراف کیا اس کے ہاتھ ایرانیوں کے خون سے رنگے ہیں، اب ٹرمپ کہہ رہا ہے کہ وہ ایرانی قوم کے ساتھ کھڑا ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ امریکی صدر دنیا کو تکبرانہ انداز سے دیکھتا ہے، فرعون، نمرود، رضا پہلوی اور دیگر نے اپنا انجام دیکھا، ٹرمپ کو بھی یہ بات سمجھنی چاہئے، جس طرح وہ لوگ اپنے عروج پر آ کر پستی میں گئے، ٹرمپ کا بھی یہ یہی انجام ہوگا۔

واضح رہے ایران میں بڑھتے ہوئے احتجاج کے باعث حکام نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی ہے، جس کے نتیجے میں ایران بڑی حد تک بیرونی دنیا سے کٹ گیا ہے۔ بیرونِ ملک سے فون کالز نہیں مل رہیں، متعدد پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں اور ایرانی آن لائن نیوز ویب سائٹس صرف وقفے وقفے سے اپ ڈیٹ ہو رہی ہیں۔

یہ احتجاج مہنگائی اور شدید معاشی بحران کے خلاف شروع ہوا تھا۔ اگرچہ یہ تین سال قبل ہونے والی ملک گیر بدامنی کے مقابلے میں کم شدت رکھتا ہے، تاہم یہ ایران کے مختلف حصوں میں پھیل چکا ہے۔

اطلاعات کے مطابق درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اسرائیل اور امریکا کے ساتھ گزشتہ سال کی جنگ کے بعد کمزور معیشت اور بڑھتے عالمی دباؤ نے حکومت کو زیادہ غیر محفوظ بنا دیا ہے۔

ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم ہینگاؤ کے مطابق صوبہ سیستان و بلوچستان کے شہر زاہدان میں جمعہ کی نماز کے بعد نکلنے والے احتجاجی جلوس پر فائرنگ کی گئی، جس سے کئی افراد زخمی ہوئے۔

ایران کی بیرونِ ملک اپوزیشن جماعتوں نے مزید احتجاج کی اپیل کی ہے۔ سابق شاہ ایران کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی نے سوشل میڈیا پر ایرانی عوام سے کہا کہ دنیا کی نظریں ان پر ہیں اور وہ سڑکوں پر نکل آئیں۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے گزشتہ موسمِ گرما میں ایران پر بمباری کی تھی اور حال ہی میں مظاہرین کی مدد کا عندیہ دیا تھا، انھوں نے جمعے کو کہا کہ وہ رضا پہلوی سے ملاقات نہیں کریں گے اور نہ ہی انہیں یقین ہے کہ ان کی حمایت مناسب ہو گی۔

ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے رات گئے مناظر نشر کیے جن میں جلتی ہوئی بسیں، گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، میٹرو اسٹیشنز اور بینک دکھائے گئے۔ سرکاری میڈیا نے ان واقعات کا الزام پیپلز مجاہدین آرگنائزیشن (ایم کے او) پر عائد کیا، جو 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد وجود میں آنے والی ایک اپوزیشن جماعت ہے۔

بحیرۂ کیسپین کے ساحلی شہر رشت میں شارعِ شریعتی پر موجود سرکاری ٹی وی کے ایک رپورٹر نے کہا کہ علاقہ جنگی میدان کا منظر پیش کر رہا ہے اور بیشتر دکانیں تباہ ہو چکی ہیں۔ رائٹرز کی تصدیق شدہ ویڈیوز میں دارالحکومت تہران میں سیکڑوں افراد کو مارچ کرتے دیکھا گیا، جب کہ ایک ویڈیو میں ایک خاتون کو خامنہ ای مردہ باد کا نعرہ لگاتے بھی سنا گیا۔

ایران اس سے قبل بھی بڑے احتجاج کو کچل چکا ہے، تاہم اس وقت ملک کو شدید معاشی بحران اور عالمی دباؤ کا سامنا ہے۔ متنازع جوہری پروگرام پر عالمی پابندیاں ستمبر سے دوبارہ نافذ ہو چکی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ معاشی مسائل پر احتجاج جائز ہے، تاہم پرتشدد مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کے مطابق مظاہرین کی آواز سنی جانی چاہیے، لیکن غیر ملکی نیٹ ورکس سے جڑے عناصر کے ساتھ مختلف سلوک کیا جائے گا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق انٹرنیٹ کی بندش سے بیرونِ ملک سے ایران فون کال ملانا ممکن نہیں رہا، جب کہ دبئی ایئرپورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق دبئی اور ایران کے مختلف شہروں کے درمیان کم از کم چھ پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔

Israel

Donald Trump

Tehran

economic crisis

مشرق وسطیٰ

Ayatollah Ali Khamenei

Amrica

Internet shutdown

Iran Unrest

Iran Protests

Iran Crisis