پیوٹن کا 2024 کے بعد پہلی بار یوکرین پر نئے ہتھیار کا استعمال، مغرب کو وارننگ

روسی صدر نے اوریشنک میزائل داغ کر امریکہ اور یورپ کو فوجی طاقت کا اشارہ دے دیا
شائع 10 جنوری 2026 09:11am

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین جنگ کے تناظر میں ایک بار پھر اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اوریشنک ہائپرسونک میزائل داغ دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام کا مقصد یوکرین کو دباؤ میں لانے کے ساتھ ساتھ یورپ اور امریکہ کو واضح پیغام دینا ہے کہ روس اپنی عسکری صلاحیتوں کے حوالے سے سنجیدگی سے لیا جائے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے اوریشنک ہائپرسونک میزائل کا حالیہ استعمال یوکرین اور مغربی ممالک کے لیے ایک وارننگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ روس نے اس میزائل کو پہلی بار نومبر 2024 میں یوکرین کے خلاف استعمال کیا تھا، جس کے بعد اسے محفوظ رکھا گیا تھا۔

تجزیہ کار مانگوٹ کا کہنا ہے کہ یہ میزائل داغنا دراصل امریکہ اور یورپی ممالک کو روسی فوجی طاقت کا پیغام دینا ہے۔ ان کے مطابق ماسکو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ روس کے فوجی اثاثوں کو سنجیدگی سے لیا جائے اور یورپ و امریکہ مذاکرات میں روس کے مؤقف کا احترام کریں۔

اوریشنک میزائل جوہری اور روایتی دونوں طرح کے وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم حالیہ حملے میں کسی جوہری ہتھیار کے استعمال کا کوئی اشارہ نہیں ملا۔ یوکرین کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ یہ میزائل مغربی شہر لویو میں ایک سرکاری ادارے پر گرا اور غالب امکان ہے کہ اس میں غیر فعال یا فرضی وار ہیڈ نصب تھے، جیسا کہ 2024 میں میزائل کے ابتدائی تجربے کے دوران کیا گیا تھا۔

روسی نیوکلیئر فورسز پراجیکٹ کے ڈائریکٹر پاویل پوڈوِگ کے مطابق اس مرحلے پر روس اوریشنک میزائل کو تباہی کے بجائے پیغام رسانی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد مغرب اور یوکرین کو روس کی جانب سے ممکنہ شدت میں اضافے کے عزم سے آگاہ کرنا ہے۔

حملے پر مغربی ردعمل فوری سامنے آیا۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے رہنماؤں نے اسے اشتعال انگیز اور ناقابل قبول قرار دیا، جبکہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کایا کالاس نے کہا کہ یہ یوکرین کے خلاف واضح اشتعال اور یورپ و امریکہ کے لیے وارننگ ہے۔

دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی یوکرین کی جانب سے ڈرون حملے کے جواب میں کی گئی، جس میں مبینہ طور پر صدر پیوٹن کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا گیا تھا، تاہم یوکرین نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ روس امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لیے جھوٹے دعوے کر رہا ہے۔

کئی معروف روسی جنگی بلاگرز نے بھی اس حملے کو محض بدلہ قرار دینے کے مؤقف پر تنقید کی۔ ایک بلاگر نے کہا کہ اگر یہ واقعی انتقامی کارروائی ہوتی تو اسے یوکرینی صدر کے بنکر کو نشانہ بنانا چاہیے تھا۔

ماہرین کے مطابق اوریشنک میزائل کا استعمال روس کی جانب سے ایک نفسیاتی حربہ بھی ہو سکتا ہے، جس کا مقصد یہ تاثر دینا ہے کہ روس اب بھی ایک جوہری طاقت ہے اور عالمی سطح پر اثر رکھتا ہے۔ روسی حکام اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نئے میزائل کی تعداد محدود ہے اور اسے سال میں چند بار ہی بطور طاقت کے مظاہرے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ایک روسی جنگی بلاگر کے مطابق پیغام دے دیا گیا ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ آئندہ اس طرح کے مزید مظاہروں کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

russia

Vladimir Putin

Putin

Russia Ukraine War

Oreshnik hypersonic missile