امریکا نے اپنے تمام شہریوں کو ’فوری طور پر‘ زمینی راستوں سے ایران چھوڑنے کی ہدایت کردی

جو شہری اس وقت ایران چھوڑنے کے قابل نہیں ہیں، وہ اپنے گھروں یا کسی محفوظ عمارت میں رہیں: امریکی سفارت خانہ
شائع 13 جنوری 2026 09:33am

ایران میں جاری احتجاج اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکا نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

ایران میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مظاہروں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، جو مزید تشدد کی صورت اختیار کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں گرفتاریوں اور زخمی ہونے کے واقعات کا خدشہ ہے۔

امریکی حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر ممکن ہو تو زمینی راستوں کے ذریعے آرمینیا یا ترکیہ کے راستے ایران سے نکل جائیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق ایران میں سیکیورٹی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں، کئی سڑکیں بند ہیں، عوامی ٹرانسپورٹ متاثر ہو چکی ہے اور انٹرنیٹ تک رسائی میں شدید رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔

محکمہ خارجہ نے بتایا ہے کہ ایرانی حکومت نے موبائل فون، لینڈ لائن اور قومی انٹرنیٹ نیٹ ورک تک رسائی محدود کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ متعدد ایئرلائنز نے ایران کے لیے پروازیں محدود یا منسوخ کر دی ہیں، جبکہ کچھ فضائی کمپنیوں نے 16 جنوری جمعہ تک اپنی سروس معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جو شہری اس وقت ایران چھوڑنے کے قابل نہیں ہیں، وہ اپنے گھروں یا کسی محفوظ عمارت میں رہیں اور پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء اپنے پاس رکھیں۔

اس کے علاوہ امریکی اداروں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ امریکا اور ایران کی دوہری شہریت رکھنے والے افراد ایران سے روانگی کے وقت ایرانی پاسپورٹ استعمال کریں۔

محکمہ خارجہ کے مطابق ایرانی حکومت دوہری شہریت کو تسلیم نہیں کرتی اور ایسے افراد کو صرف ایرانی شہری سمجھا جاتا ہے۔

بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ امریکی شہریوں کو ایران میں پوچھ گچھ، گرفتاری اور حراست کا سنگین خطرہ لاحق ہے، جبکہ امریکی پاسپورٹ دکھانا یا امریکا سے تعلق ظاہر کرنا بھی گرفتاری کی وجہ بن سکتا ہے۔

یہ سخت وارننگ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی شب ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت نے ان سے رابطہ کیا ہے اور بات چیت کی خواہش ظاہر کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ملاقات کی تیاری کی جا رہی ہے، تاہم ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ ملاقات سے پہلے حالات کے پیش نظر کسی کارروائی کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔

ایرانی حکام کی جانب سے بھی مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی گئی ہے، لیکن ساتھ ہی کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے خلاف سخت انتباہ دیا گیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں غیر ملکی سفیروں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔

اس سے قبل ایران نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو اس کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ایران کئی ہفتوں سے احتجاج جاری ہے، جس کے دوران مکمل انٹرنیٹ بند ہے۔ رپورٹس کے مطابق مظاہروں میں اب تک 500 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور تقریباً 10 ہزار افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

ایران کے پولیس چیف احمد رضا رادان نے سرکاری ٹی وی پر بتایا کہ مظاہرین کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کر دی گئی ہیں اور ہفتے کی رات فسادات میں ملوث اہم افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

انہوں نے ہلاکتوں کی بڑی تعداد کا ذمہ دار سیکیورٹی فورسز کے بجائے تربیت یافتہ اور منظم عناصر کو قرار دیا، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گرفتار افراد کو قانونی عمل مکمل ہونے کے بعد سزا دی جائے گی۔

Iran Protest

us advisory

iran inflation

Iran Unrest

Iran Crisis

Iran Revolution

US Preparing to Attack Iran

Iranian government

IRAN AMERICA TALKS

Iran Support

Evacuate Iran

US Embassy in Iran