کیا انتخابات سے قبل ایران نیتن یاہو کے لیے سب سے بڑا امتحان ہوگا؟
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو رواں سال اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں ووٹروں کے سامنے آئیں گے۔ یہ ان کے لیے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد پہلا بڑا انتخاب ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری بحران اور اس کے نتائج نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل اور ان کی سیاسی وراثت کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے (رائٹرز) کے مطابق اکتوبر 2023 کے بعد سے ہونے والے تمام بڑے سرویز میں نیتن یاہو کی جماعت کو واضح نقصان دکھایا گیا ہے۔ حالیہ مہینے میں اسرائیل کے تینوں بڑے نیوز چینلز کے سرویز میں بھی نیتن یاہو کو ممکنہ انتخابی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسرائیل کے طویل ترین عرصے تک اقتدار میں رہنے والے وزیراعظم اس وقت اپنی دائیں بازو کی اتحادی حکومت کے اندر فوجی بھرتی کے قانون پر اختلافات، بدعنوانی کے مقدمات اور حماس کے حملے میں سیکیورٹی ناکامیوں کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ 7 اکتوبر کا حملہ اسرائیل کی تاریخ کا سب سے خونی دن قرار دیا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران میں حکومت مخالف احتجاج اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیاں نیتن یاہو کے لیے سیاسی فائدہ بھی بن سکتی ہیں۔ تل ابیب یونیورسٹی کے سیاسی تجزیہ کار اوڈی سومر کے مطابق نیتن یاہو کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ ایران میں موجودہ نظام یا تو اسی مدتِ حکومت میں ختم ہو جائے یا اگلی مدت میں اس کی بنیادیں ہلا دی جائیں۔
ایران کے معاملے پر نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسرائیلی حکومتی عہدیداروں کے مطابق نیتن یاہو کی سیکیورٹی کابینہ کو ایران میں ممکنہ نظامی تبدیلی اور امریکی مداخلت کے امکانات پر بریفنگ دی جا چکی ہے۔
اگرچہ نیتن یاہو نے فی الحال ایران کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی کے ارادے کا اظہار نہیں کیا، تاہم وہ ایران کو اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کی بحالی سے خبردار کر چکے ہیں۔ حالیہ بیان میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل حکومت مخالف ایرانی عوام کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت کرتا ہے۔
داخلی محاذ پر نیتن یاہو کو فوجی بھرتی کے قانون پر شدید دباؤ کا سامنا ہے، کیونکہ ان کے الٹرا آرتھوڈوکس اتحادی اپنے طبقے کے لیے فوجی سروس سے استثنا چاہتے ہیں، جو غزہ جنگ کے بعد عام اسرائیلیوں میں غیر مقبول ہے۔
اس کے علاوہ حکومت کو مارچ کے اختتام تک بجٹ کی منظوری بھی درکار ہے۔ اگر بجٹ منظور نہ ہو سکا تو 90 دن کے اندر قبل از وقت انتخابات ناگزیر ہو جائیں گے، مبصرین کے مطابق جون میں انتخابات کے امکانات مضبوط ہیں۔
نیتن یاہو پر بدعنوانی، رشوت اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مقدمات بھی زیرِ سماعت ہیں، جن سے وہ انکار کرتے ہیں۔ ان قانونی مسائل، سیکیورٹی ناکامیوں اور سیاسی دباؤ کے باعث ایران کا بحران نیتن یاہو کے لیے ایک بڑا موقع بھی بن سکتا ہے اور ایک سنگین خطرہ بھی۔












