ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن: پرویز الٰہی سمیت دیگر پر فرد جرم عائد
احتساب عدالت نے کرپشن کیس کی سماعت کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی و دیگر پر فرد جرم عائد کر دی۔
احتساب عدالت کے جج رانا عارف نے ریفرنس کی سماعت کی، جس دوران تمام ملزمان نے صحتِ جرم سے انکار کرتے ہوئے الزامات کو مسترد کر دیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے دو نئے ملزمان کے سامنے آنے کے بعد ضمنی ریفرنس دائر کیا گیا تھا، جس پر کارروائی کو آگے بڑھایا گیا۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت کے لیے ریفرنس کے گواہوں کو 29 جنوری کو طلب کر لیا ہے تاکہ شواہد ریکارڈ کیے جا سکیں۔
یاد رہے کہ چوہدری پرویز الٰہی کو 19 ستمبر 2023 کو اس مقدمے سمیت پنجاب اسمبلی میں محمد خان بھٹی کی مبینہ غیر قانونی تعیناتی کے معاملے پر دوبارہ حراست میں لیا گیا تھا۔
اس سے قبل یکم جون 2023 کو ان کی رہائش گاہ کا ایک ہفتے تک محاصرہ کیے جانے کے بعد انسداد بدعنوانی اسٹیبلشمنٹ کی ٹیم اور پولیس نے انہیں گرفتار کیا تھا۔
انسداد بدعنوانی اسٹیبلشمنٹ کے مطابق پرویز الٰہی اختیارات کے ناجائز استعمال اور ترقیاتی فنڈز میں مبینہ غبن کے مقدمے میں مطلوب تھے۔ اے سی ای کا مؤقف ہے کہ ان کے دورِ حکومت میں گجرات کے ترقیاتی منصوبوں میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی اور سرکاری فنڈز کا غلط استعمال ہوا۔
اے سی ای کے ترجمان کے مطابق غیر قانونی تقرریوں کے ایک الگ کیس میں الزام ہے کہ سابق وزیراعلیٰ نے پنجاب اسمبلی میں گریڈ 17 کے بارہ افسران کو میرٹ کے خلاف بھرتی کیا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ان تقرریوں کے لیے گجرات اور منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے نتائج تبدیل کیے گئے۔ اس معاملے میں سیکریٹری پنجاب اسمبلی رائے ممتاز حسین کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے کا حکم دیتے ہوئے کارروائی ملتوی کر دی، جبکہ کیس کی پیش رفت پر تمام فریقین کی نظریں آئندہ سماعت پر مرکوز ہیں۔













