مجھے خوشی ہے کہ ایران نے 800 سے زائد افراد کی پھانسیاں منسوخ کر دیں: ٹرمپ

تمام افراد کو گزشتہ روز پھانسی دی جانی تھی، امریکی صدر کا ٹروتھ سوشل پر بیان
اپ ڈیٹ 17 جنوری 2026 12:23am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ ایرانی قیادت نے 800 سے زائد افراد کی سزائے موت منسوخ کر دی ہیں۔ ان تمام افراد کو گزشتہ روز پھانسی دی جانی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’ایکس‘ پر اور اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر کہا کہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے اور اس اقدام سے انسانی جانوں کے تحفظ کی امید پیدا ہوئی ہے۔

انہوں نے ایرانی قیادت کے اس فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو تقویت مل سکتی ہے۔

ایرانی قیادت کی جانب سے سزائے موت کی منسوخی سے متعلق بیان سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور متنازع بیان میں ایران اور امریکا میں احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے دوہرا معیار بھی اپنایا۔

صدرٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ ایران میں احتجاج ہونا بہت اچھا ہے، تاہم امریکا کی ریاست منی سوٹا میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے خلاف ہونے والے احتجاج کو انہوں نے انتشاری اور بغاوت قرار دیا۔

اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے منی سوٹا میں مظاہرین کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر یہ باغی پروفیشنل ہیں جنہیں اس کام کے لیے بڑی رقوم دی جا رہی ہیں۔

انہوں نے مقامی حکومت اور میئر کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم ہی نہیں کہ کیا کرنا ہے، منی سوٹا میں ان لوگوں نے مکمل طور پر اپنا کنٹرول کھو دیا ہے۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ اگر انہیں خود کارروائی پر مجبور کیا گیا تو بہت تیزی کے ساتھ سارا معاملہ حل ہو جائے گا۔

قبل ازیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ایران پر حملہ نہ کرنے کے لئے کسی نے نہیں کہا، یہ ان کا اپنا فیصلہ تھا۔ انہوں نے کہا آٹھ سو افراد کی پھانسیاں منسوخ کرنےکا بڑا اثر ہوا۔

ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ماریا مچاڈو نے انہیں خود نوبیل انعام دینے کی آفر کی، مچاڈو نے کہا کہ آپ نے آٹھ جنگیں رکوائیں ہیں، تاریخ میں آپ سے زیادہ کوئی اس انعام کا حقدارنہیں۔

گرین لینڈ سے متعلق انھوں نے کہا کہ ہمیں اپنی سیکیورٹی کے لیے گرین لینڈ کی شدید ضرورت ہے، گرین لینڈ کے بغیر ہماری سیکیورٹی میں بڑا ’سوراخ‘ رہے گا، ہم نے ملٹری پر بڑی سرمایہ کاری کی ہے، ہمیں گولڈن ڈوم میزائل سسٹم کیلئے گرین لینڈ چاہئے۔

خیال رہے کہ ادھر، ایران کے خلاف امریکی مداخلت کے حامی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی امریکی سینیٹرلنڈسے گراہم اسرائیل پہنچ چکے ہیں جہاں وہ وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور دیگر اسرائیلی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔

سینیٹرلنڈسے گراہم نے کہا ہے کہ وہ ایران سے متعلق صدر ٹرمپ کی جانب سے پیدا کی گئی سیاسی رفتار کو آگے بڑھانے کے امکانات پر بات کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران میں حالیہ احتجاج اور کریک ڈاؤن کے بعد عوام حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کرنے میں حق بہ جانب ہیں اور اس موقع کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔

لنڈسے گراہم کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب چند روز قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنے سخت مؤقف میں نرمی کے اشارے دیے تھے اور رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ امریکا ایران پر حملے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

تاہم گراہم نے ان خبروں کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ اب بھی ایران کے خلاف کارروائی پر غور کر سکتی ہے۔

Israel

مشرق وسطیٰ

TRUTH SOCIAL

President Donald Trump

Executions

US Politics

Iran Protests

ICE Protests

Iran Death Penalty

Double Standards

Minnesota Protests

Lindsey Graham