محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر تقرری کیسے ہوئی؟ نیا پنڈورا باکس کُھل گیا

نواز شریف کی مشاورت سے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کروایا گیا: سینیٹر کامران مرتضیٰ
شائع 17 جنوری 2026 08:59am

قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر مقرر کیے جانے کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اس تقرری کے پس منظر سے متعلق ایک بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ محمود خان اچکزئی نے براہ راست سابق وزیراعظم نواز شریف سے رابطہ کیا تھا، جس کے بعد نواز شریف کی مشاورت سے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کروایا گیا۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ کے مطابق یہ اقدام آنے والے دنوں میں وسیع تر میثاقِ جمہوریت کی بنیاد بن سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی حالات میں مختلف جماعتوں کے درمیان رابطے اور مشاورت جمہوری نظام کے لیے مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ محمود خان اچکزئی مشکل وقت میں ان کے ساتھی رہے ہیں اور نواز شریف کے خیالات بھی ان کے حوالے سے مثبت ہیں۔

رانا ثنا اللہ کا نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہنا تھا کہ یہ ممکن نہیں کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے اس تقرری سے قبل پارٹی قیادت یا اہم رہنماؤں کو اعتماد میں نہ لیا ہو۔

واضح رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اسمبلی کے بزنس رولز کے تحت یہ تقرری 16 جنوری 2026 سے نافذ العمل ہوچکی ہے۔

اپوزیشن لیڈر کا عہدہ اس سے قبل نو مئی کیس میں عمر ایوب خان کی نااہلی کے باعث خالی ہوا تھا، جبکہ قومی اسمبلی میں تقریباً چھ ماہ بعد اپوزیشن لیڈر کا تقرر عمل میں آیا ہے۔

رانا ثنا اللہ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت مذاکرات کے لیے تیار نہیں اور آٹھ فروری کی کال واپس نہیں لیں گے، تاہم ان کے بقول یہ کال ناکام ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد بہتر یہی ہو گا کہ متعلقہ سیاسی قوتیں پارلیمان کے اندر آ کر اپنا کردار ادا کریں۔

Nawaz Sharif

Rana Sanaullah

kamran murtaza

Mehmood Khan Achakzai