غزہ امن کونسل تیار، کون سی پیچیدہ ذمہ داریاں سامنے آنے والی ہیں؟
امریکا نے غزہ جنگ بندی منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز اور امن کونسل کی تشکیل کی تصدیق کر دی ہے۔ اس پیش رفت سے تعمیر نو اور سیاسی بندوبست کی امیدیں بڑھیں، مگر عملی رکاوٹیں بدستور موجود ہیں۔
امریکی انتظامیہ کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق 20 نکاتی منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کے اعلان کے بعد خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔
منصوبے کے تحت غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنا، ایک عبوری ٹیکنوکریٹ نظام قائم کرنا، تعمیر نو کے لیے بین الاقوامی نگرانی متعارف کرانا اور مستقبل میں فلسطینی اتھارٹی کی واپسی کی راہ ہموار کرنا شامل ہے۔ تاہم اس کے مختلف حصوں پر شدید اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔
جنگ بندی کا پہلا مرحلہ، جو 10 اکتوبر کو نافذ ہوا تھا، مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکا۔ قیدیوں کے تبادلے کے باوجود ایک اسرائیلی پولیس افسر کی لاش تاحال غزہ میں موجود ہے جبکہ فریقین ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
غزہ کے صحت حکام کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیلی کارروائیوں میں 400 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
منصوبے کے تحت غزہ کے انتظام کے لیے ایک آزاد فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی بنانے کی تجویز دی گئی ہے جو امریکی نگرانی میں سول امور چلائے گی۔ حماس نے موجودہ حکومتی ڈھانچہ ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے، تاہم اس نے اپنے عسکری ونگ کو تحلیل کرنے سے انکار کیا ہے۔ یہی نکتہ منصوبے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن رہا ہے کیونکہ اسرائیل نے اپنے فوجی انخلا کو حماس کے مکمل ترکِ اسلحہ سے مشروط کر رکھا ہے۔
امن کونسل کی مجوزہ تشکیل بھی ایک حساس معاملہ ہے جس کا مقصد جنگ بندی، تعمیر نو اور فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات کی نگرانی ہے۔ مبصرین کے مطابق ایسی کونسل کو بیک وقت اسرائیل، حماس، عالمی ثالثوں اور امدادی اداروں کے ساتھ مؤثر رابطہ رکھنا ہوگا، جو عملی طور پر ایک مشکل مرحلہ تصور کیا جا رہا ہے۔
اسی منصوبے میں ایک بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام کی شق بھی شامل ہے جو سکیورٹی سنبھالے گی اور مقامی پولیس کو تربیت دے گی، مگر اس فورس کے خدوخال ابھی واضح نہیں۔ اقوام متحدہ پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ غزہ کی مکمل تعمیر نو پر تقریباً 70 ارب ڈالر لاگت آئے گی جبکہ معاشی فریم ورک ابھی سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب اسرائیل فلسطینی ریاست اور غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کے کردار کی کھل کر مخالفت کر رہا ہے، جس کے باعث منصوبے کی کامیابی کا انحصار آئندہ مذاکرات اور زمینی پیش رفت پر ہوگا۔















