سندھ طاس معاہدہ: بھارتی اقدامات پر امریکی جریدے کی پاکستانی مؤقف کی کھل کر تائید
سندھ طاس معاہدے کے خلاف بھارتی اقدامات پر پاکستان کا اصولی اور قانونی مؤقف ایک بار پھر عالمی سطح پر درست ثابت ہو گیا ہے، معروف امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے کھل کر پاکستان کی حمایت کرتے ہوئے بھارت کی آبی پالیسیوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔
معروف امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں رکھتا اور اس حوالے سے پاکستان کا مؤقف مکمل طور پر درست اور عالمی قوانین کے مطابق ہے۔
جریدے کے مطابق بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے دعوے اور اس پر عمل درآمد کی کوششیں جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کا باعث بن رہی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان خطے میں ذمہ دار ریاست کے طور پر ہمیشہ پانی کو امن اور تعاون کا ذریعہ سمجھتا آیا ہے، جب کہ بھارت پانی کو اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی پالیسی پر گامزن نظر آتا ہے۔
دی نیشنل انٹرسٹ نے بھارت کے جموں و کشمیر میں دریائے چناب پر دُلہستی اسٹیج۔II ہائیڈروپاور منصوبے کو سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے منصوبے نہ صرف معاہدے کی روح کے منافی ہیں بل کہ پاکستان کے کروڑوں عوام کے آبی حقوق کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
یہ اقدام اپریل 2025 میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کرنے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا، جسے ماہرین عالمی قوانین اور معاہدے کی روح کے منافی قرار دے رہے ہیں۔ رپورٹ میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ مغربی دریاؤں کا پانی پاکستان کے لیے مہیا کرنا بھارت پر قانونی طور پر لازم ہے۔
رپورٹ کے مطابق سندھ طاس معاہدہ، جو 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا تھا، دنیا کے کامیاب ترین بین الاقوامی آبی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے۔ معاہدے کے مطابق مشرقی دریا بھارت کے حصے میں ہیں، جب کہ مغربی دریا سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کے لیے مختص ہیں۔
دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق معاہدے میں کہیں بھی یک طرفہ معطلی یا خاتمے کی کوئی شق موجود نہیں۔ اس کے باوجود بھارت نے حالیہ برسوں میں آبی ڈیٹا کی فراہمی روک دی، تنازعات کے حل کے طریقہ کار کو کمزور کیا اور سندھ طاس بیسن میں متنازع ہائیڈرو پاور منصوبوں پر تیزی سے کام شروع کر دیا ہے، جن میں رٹلے، پکال دل، برسر، ساول کوٹ، کِرو، کواڑ اور کِرتھائی منصوبے شامل ہیں۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگست میں مستقل ثالثی عدالت (PCA) ایک بار پھر اس بات کی تصدیق کر چکی ہے کہ بھارت مغربی دریاؤں کا پانی پاکستان کے لیے بلا رکاوٹ بہنے دینے کا پابند ہے اور سیاسی اختلافات کے باوجود سندھ طاس معاہدہ قانونی طور پر مکمل طور پر نافذ العمل ہے۔ اس کے برعکس پاکستان مسلسل نیوٹرل ایکسپرٹ کے عمل میں شریک رہا، جو دونوں ممالک کے طرزِعمل میں واضح فرق کو ظاہر کرتا ہے۔
امریکی جریدے کے مطابق دریائے چناب پاکستان کی زرعی اور معاشی زندگی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ پنجاب میں گندم، چاول اور گنا جیسی بنیادی غذائی فصلوں کا انحصار اسی دریا پر ہے، جب کہ پاکستان کا 80 فیصد سے زائد زرعی نظام سندھ طاس بیسن سے وابستہ ہے۔ کسی بھی قسم کی بھارتی مہم جوئی پورے خطے کو پانی کے بحران اور انسانی المیے کی طرف لے جا سکتی ہے۔
بھارت کے دُلہستی اسٹیج۔II منصوبے کے تحت دریائے ماروسودر کا پانی پکال دل منصوبے کے ذریعے دُلہستی ریزروائر میں منتقل کیا جائے گا، جس سے دریا کی قدرتی ساخت اور ماحولیات متاثر ہوں گی۔ بھارتی ماحولیاتی دستاویزات بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ اس سے دریا کے 25 کلومیٹر طویل حصے میں نمایاں ہائیڈرولوجیکل تبدیلی آئے گی، جس کے اثرات سرحد پار تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی بھارتی کوششیں عالمی عدالتوں اور بین الاقوامی قانون کے تحت ناقابل قبول ہیں، جب کہ پاکستان کا مؤقف آئینی، قانونی اور اخلاقی بنیادوں پر مضبوط ہے۔













