اہرام مصر کی تعمیر سے متعلق نیا دعویٰ سامنے آگیا
مصر کے گیزا میں موجود عظیم ہرم (Great Pyramid) صدیوں سے دنیا کے لیے ایک راز بنا ہوا ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ رہا ہے کہ ہزاروں سال پہلے، جب جدید مشینیں موجود نہیں تھیں، ہرم کے کئی ٹن وزنی پتھروں کو اٹھا کر اور تیزی سے جوڑ کر کیسے بنایا گیا۔ اب سائنسدانوں نے اس بارے میں ایک نیا اور تفصیلی نظریہ پیش کیا ہے۔
معروف سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی نئی تحقیق ثابت کرتی ہے کہ عظیم ہرم کو بنانے کے لیے باہر سے اوپر کی طرف لمبی ڈھلوانیں استعمال نہیں کی گئیں، جیسا کہ پہلے سمجھا جاتا تھا، بلکہ ہرم کے اندرایک خاص مکینیکل نظام کے تحت اسے اندر سے باہر کی جانب تعمیر کیا گیا، جس میں متوازن وزن، رسیاں، لکڑی کے شہتیر اور چرخیوں جیسے میکانزم شامل تھے۔
یہ نظام عام آنکھ سے اوجھل تھا اور تعمیر مکمل ہونے کے بعد بند کر دیا گیا۔
نیویارک کے وائل کارنیل میڈیکل کالج سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر سائمن آندریاس شورنگ کی تحقیق کے مطابق ہرم کی اندرونی راہداریوں، عظیم گیلری اور چڑھنے والے راستوں کو دراصل اندرونی ڈھلوانوں کے طور پر استعمال کیا گیا۔
ان راستوں پر وزن کے توازن سے چلنے والا نظام اتنی طاقت پیدا کرتا تھا کہ بھاری پتھروں کو بغیر زیادہ انسانی زور لگائے اوپر منتقل کیا جا سکتا تھا۔۔ اس طریقے سے مزدور 60 ٹن تک وزنی پتھر بھی اٹھا سکتے تھے، وہ بھی زیادہ طاقت لگائے بغیر۔
اسی طرح ہرم کے اندر ایک چھوٹا گرینائٹ کمرہ، جسے پہلے چوروں سے بچاؤ کے لیے بنایا گیا سمجھا جاتا تھا، دراصل پتھروں کو اٹھانے والے نظام کا ایک اہم حصہ تھا۔ وہاں رسیاں اور لکڑی کے بیم استعمال کر کے بھاری بلاکس کو اوپر منتقل کیا جاتا تھا۔
اس کمرے کے فرش پر موجود خراشیں اور ناہمواری ایک عمودی ستون کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جسے تعمیر مکمل ہونے کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔
سائنسدانوں نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ ہرم کے کچھ کمرے، جیسے ملکہ کا چیمبر، بالکل درمیان میں نہیں ہیں۔ اس کی وجہ خوبصورتی نہیں بلکہ اندرونی مشینوں کے لیے جگہ بنانا تھا۔
ہرم کے بیرونی حصے میں ہلکا سا خم اور اوپر جاتے ہوئے پتھروں کا ہلکا ہونا بھی اسی تعمیراتی حکمتِ عملی کا حصہ تھا۔
تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ عظیم ہرم تقریباً 20 سال میں مکمل کیا گیا اور حساب کے مطابق ایک پتھر تقریباً ہر ایک منٹ میں نصب کیا جاتا تھا۔ یہ رفتار روایتی ڈھلوانی نظام سے ممکن نہیں تھی۔
جدید سائنسی طریقوں، جیسے میون شعاعوں سے کی گئی جانچ، اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ہرم کے اندر کسی بڑے خفیہ کمرے کے شواہد نہیں ملے تاہم کچھ چھوٹی راہداریوں کے آثار اب بھی ہو سکتے ہیں۔
اگر یہ نظریہ سچ ثابت ہو جاتا ہے تو ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو عظیم ہرم اور قدیم مصر کے دوسرے اہراموں کی تعمیر کے بارے میں اپنی پرانی رائے پر نظرِ ثانی کرنا پڑے گی۔
واضح رہے کہ عظیم ہرم فرعون خوفو کے مقبرے کے طور پر تقریباً 2560 قبل مسیح میں تعمیر کیا گیا تھا، یعنی یہ تقریباً 4,500 سال پرانا ہے اور گیزا کا سب سے بڑا ہرم ہے۔
















