مادورو کی گرفتاری کے لیے خفیہ ہتھیار کے استعمال کا انکشاف

امریکا کے پاس ایسے حیرت انگیز ہتھیار موجود ہیں جن کے بارے میں دنیا کو علم نہیں، ٹرمپ
شائع 25 جنوری 2026 11:34am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ رواں ماہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے لیے کیے گئے ایک خفیہ آپریشن کے دوران امریکا نے ایسا نیا ہتھیار استعمال کیا جس نے وینزویلا کی فوجی دفاعی صلاحیتوں کو مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا۔

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق نیویارک پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز بتایا کہ 3 جنوری کو جب امریکی ہیلی کاپٹر وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کے لیے اترے تو اس دوران ایک خفیہ ہتھیار استعمال کیا گیا، جسے ”ڈسٹریکٹر“ کا نام دیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق اس ہتھیار کے استعمال سے وینزویلا کی فوج کی تمام دفاعی صلاحیتیں مفلوج ہو گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کی فوجی مشینری مکمل طور پر ناکارہ ہو چکی تھی اور وہ روسی اور چینی ساختہ میزائل سسٹمز بھی استعمال نہ کر سکے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے صرف بٹن دبایا اور کچھ بھی کام نہیں کر رہا تھا۔

اگرچہ امریکی صدر نے اس ہتھیار کی تکنیکی تفصیلات بتانے سے گریز کیا، تاہم رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ہتھیار ’پلس انرجی‘ پر مبنی ہو سکتا ہے، جسے مبینہ طور پر ہوانا سنڈروم جیسی علامات سے جوڑا جا رہا ہے۔

صدر مادورو کے قریبی سیکیورٹی اہلکاروں کے بیانات کے مطابق آپریشن کے دوران اچانک تمام ریڈار سسٹمز بند ہو گئے تھے جبکہ بڑی تعداد میں ڈرونز نمودار ہوئے تھے۔

عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ امریکی فوجیوں کی جانب سے خارج کی گئی ایک مخصوص لہر کے نتیجے میں وہاں موجود اہلکاروں کے سروں میں شدید درد ہوا، ان کی ناک سے خون بہنے لگا اور کئی افراد بے ہوش ہو کر گر گئے۔ ایک سیکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ اس لہر کے بعد وہ حرکت کرنے کے قابل بھی نہیں رہے تھے۔

صدر ٹرمپ نے نیوز نیشن کو دیے گئے ایک انٹرویو اس حوالے سے بتایا کہ امریکا کے پاس ایسے حیرت انگیز ہتھیار موجود ہیں جن کے بارے میں دنیا کو علم نہیں، اور وہ نہیں چاہتے کہ یہ ٹیکنالوجی کسی اور کے ہاتھ لگے۔

واضح رہے کہ صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ پر منشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ سے متعلق وفاقی الزامات عائد ہیں، جن کی بنیاد پر یہ کارروائی کی گئی تھی۔