حادثاتی طور پر بنے ’روتے ہوئے گھوڑے‘ کو حاصل کرنے کی دیوانگی
چین کی سب سے بڑی ہول سیل مارکیٹ ’یی وو انٹرنیشنل ٹریڈ سٹی‘ میں ایک چھوٹی سی دکان، غیر معمولی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ یہاں خریداروں کا رش ایک ایسے کھلونے کی تلاش میں نظر آرہا ہے جو بظاہر قمری نئے سال سے پہلے خوشی کے تہوار سے مطابقت نہیں رکھتا، لیکن یہ پھر بھی سب کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔
رائٹرز کی دلچسپ رپورٹ کے مطابق یہ کھلونا سرخ رنگ کا ایک عالیشان گھوڑا ہے جس کا منہ نیچے کی طرف جھکا ہوا ہے، گلے میں سنہری گھنٹی ہے اور آنکھیں ایسی لگتی ہیں جیسے وہ سامنے دیکھنے سے جھجک رہا ہو۔ یہ گھوڑا چینی سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہو گیا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ اس سال چینی زائچے کے مطابق ’گھوڑے کا سال‘ منایا جا رہا ہے۔
انٹرنیٹ صارفین نے اس کھلونے کو ”روتا ہوا گھوڑا“ (کرائنگ ہارس) کا نام دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اداس شکل جان بوجھ کر نہیں بنائی گئی تھی۔ اصل میں اسے نئے سال کے لیے خوش چہرے والے سجاوٹی کھلونے کے طور پر تیار کیا گیا تھا، لیکن فیکٹری میں ایک معمولی غلطی ہو گئی۔ ”ہیپی سسٹر“ نامی دکان کی مالک ژانگ ہووچنگ کے مطابق ایک کاریگر نے غلطی سے گھوڑے کا منہ الٹا سی دیا، جس سے مسکراہٹ غم میں بدل گئی۔

ژانگ کا کہنا ہے کہ جب انہیں اس خامی کا علم ہوا تو انہوں نے خریدار کو رقم واپس کرنے کی پیشکش کی تھی، لیکن خریدار دوبارہ نہیں آیا۔ کچھ ہی وقت بعد ژانگ نے دیکھا کہ اسی کھلونے کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں اور لوگ اس پر دلچسپ تبصرے کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ایک جملہ خاص طور پر مقبول ہوا، ”دفتر میں ہم روتے ہوئے گھوڑے جیسے نظر آتے ہیں، اور کام کے بعد مسکراتے ہوئے گھوڑے جیسے۔“
وقت کے ساتھ اس کھلونے کی مانگ بڑھتی چلی گئی، جس کے بعد ژانگ نے فیصلہ کیا کہ وہ اداس چہرے والے گھوڑے کی تیاری جاری رکھیں گی۔
چین کے کئی نوجوان دفتری ملازمین کا کہنا ہے کہ اس کھلونے کا اداس چہرہ ان کی طویل ڈیوٹیوں، ذہنی دباؤ اور کام کی تھکن کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی جذباتی وابستگی نے اس کھلونے کو غیر متوقع طور پر مقبول بنا دیا۔

یہ رجحان صرف اسی کھلونے تک محدود نہیں بلکہ چین میں پھیلتے ہوئے “بدصورت مگر پیارے” کھلونوں کے فیشن کا بھی حصہ ہے، جسے حالیہ برسوں میں کچھ مشہور کھلونا کرداروں نے فروغ دیا ہے۔
یی وو ٹریڈ سٹی کے ایک تجربہ کار دکاندار لو ژینشیان، جو پچیس سال سے تہواری اشیا فروخت کر رہے ہیں، کہتے ہیں کہ اب تقریباً ہر گاہک دکان میں داخل ہوتے ہی روتے ہوئے گھوڑے کے بارے میں پوچھتا ہے۔
دوپہر ہوتے ہوتے ہی ’ہیپی سسٹر‘ دکان کے باہر باہر لگے اسٹینڈ خالی ہو چکے تھے اور عملہ تیزی سے نئی کھیپ شیلف پر لگا رہا تھا۔
ژانگ ہووچنگ کا کہنا ہے کہ وہ اس کھلونے کی فروخت جاری رکھیں گی کیونکہ ان کے مطابق یہ روتا ہوا گھوڑا جدید دور کے کام کرنے والے انسان کی زندگی کی حقیقت کو خوب بیان کرتا ہے۔

انسانی جذبات کی یہ عکاسی دلچسپ اور عجیب ہے لیکن یہ معمولی سی غلطی نہ صرف کاروباری کامیابی میں بدل گئی بلکہ جدید دور کے معاشرتی احساسات کی علامت بھی بن گئی۔
















