غصہ آیا اور قانون توڑنا پڑا تو 16 سالہ لڑکی سے شادی کروں گا: حافظ حمداللہ
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے رہنما حافظ حمد اللہ نے کہا کہ ان کا دوسری شادی کا کوئی ارادہ نہیں ہے، لیکن اگر انہیں غصہ آیا اور قانون توڑنا پڑا تو وہ 16 سالہ لڑکی سے شادی کریں گے۔
حافظ حمد اللہ نے ہارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو مشورہ دیا کہ ان کے بیرون ملک دورے سے واپسی پر چاروں صوبوں میں اجتماعی شادیوں کا اہتمام کیا جائے۔
حافظ حمد اللہ کا کہنا تھا کہ ان تقریبات میں ایسے نوجوانوں کی شادیاں کرائی جائیں جو بالغ ہو چکے ہوں، چاہے ان کی عمریں 18 سال سے کم ہی کیوں نہ ہوں۔ انہوں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ کم عمری کی شادی کو وہ مذہبی طور پر باطل نہیں سمجھتے، اگرچہ قانون کی نظر میں یہ جرم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو قوانین قرآن و سنت کے منافی ہوں، انہیں تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئینِ پاکستان میں واضح ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں کی جا سکتی۔
حافظ حمد اللہ نے پارلیمنٹ میں قانون سازی کرنے والوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئین سے انحراف کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
ان کے بقول مولانا فضل الرحمان آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے بات کر رہے ہیں۔
اس سے قبل 23 جنوری کو مولانا فضل الرحمان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی پر پابندی کو غیر اسلامی سمجھتے ہیں اور اس قانون کی خلاف ورزی کو اپنا احتجاج قرار دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے 30 مئی 2025 کو ’اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل‘ پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد یہ قانون نافذ ہوا۔
اس قانون کے تحت 18 سال سے کم عمر لڑکی سے شادی کرنے والے مرد کو تین سال تک قید بامشقت کی سزا ہو سکتی ہے۔
اسی طرح کم عمر دلہا یا دلہن کو شادی پر مجبور کرنے، بچوں کی شادی میں معاونت، یا اس مقصد کے لیے ٹریفکنگ کرنے پر بھی قید اور جرمانے کی سزائیں رکھی گئی ہیں۔
قانون میں نکاح خواں کی ذمہ داری بھی واضح کی گئی ہے کہ وہ نکاح سے قبل دونوں فریقین کی عمر اور شناختی دستاویزات کی تصدیق کریں۔
یہ بل قومی اسمبلی میں شرمیلا فاروقی اور سینیٹ میں شیری رحمٰن نے پیش کیا تھا، جسے بعد ازاں پارلیمنٹ نے منظور کیا۔
تاہم اسلامی نظریاتی کونسل اس قانون کو غیر اسلامی قرار دے چکی ہے، خاص طور پر 18 سال سے کم عمر کی شادی پر سزاؤں کے تعین پر کونسل نے اعتراضات اٹھائے ہیں۔












