ایپسٹین فائلز میں مودی کا نام؛ مِیمرز کو نیا موقع مل گیا

ایپسٹین فائلز میں نریندر مودی سے متعلق دعوے پر مِیمرز نے سوشل میڈیا پر مزاحیہ مواد کا طوفان برپا کر رکھا ہے
شائع 01 فروری 2026 04:32pm

امریکا کے بدنامِ زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی ای میل میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا نام سامنے آنے پر بھارت میں سیاسی ہلچل مچ گئی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایپسٹین فائلز میں مودی کا نام آنے سامنے کو قوم کے لیے شرمندگی کا باعث قرار دیا ہے وہیں سوشل میڈیا پر میمرز بھی اس معاملے میں کود پڑے ہیں۔

امریکی محکمہ انصاف نے جمعے کے روز جیفری ایپسٹین سے متعلق تقریباً 30 لاکھ صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کیں۔

ان ہی دستاویزات میں ایک ایسی ای میل بھی شامل تھی جس میں بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کا تذکرہ بھی موجود ہے۔

رپورٹ کے مطابق جولائی 2017 میں وائے جابر نامی شخص کو بھیجی گئی ایک ای میل میں جیفری ایپسٹین نے بھارتی وزیرِاعظم کے اسرائیل کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بھارتی وزیرِاعظم نے اُن سے مشورہ لیا تھا، اسرائیل میں رقص کیا اور گیت بھی گائے۔

اسی ای میل میں لکھا ہے کہ نریندر مودی نے یہ سب کچھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے کیا تھا، دونوں رہنماؤں کی چند ہفتے قبل ہی ملاقات ہوئی تھی۔ یہ دعوٰی بھی کیا گیا ہے کہ اِن سرگرمیوں سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سیاسی فائدہ پہنچا۔

یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھارتی وزیرِاعظم پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔ اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس معاملے کو شرم ناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان مبینہ انکشافات سے تاثر ملتا ہے کہ مودی اور ایپسٹین کے درمیان قریبی روابط تھے، جس کی وضاحت سامنے آنا ضروری ہے۔

دوسری جانب بھارتی حکومت نے جیفری ایپسٹین کی 2017 کی ایک ای میل میں وزیرِاعظم نریندر مودی کے اسرائیل دورے سے متعلق دیے گئے بیان کو رد کیا ہے۔

حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس معاملے پر بیان بازی کا سلسلہ جاری ہے وہیں سوشل میڈیا پر بھی سنجیدہ بیانات کے علاوہ مِیمز کی بھرمار ہے۔

میمز آف بی جے پی نامی اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی ایک اے آئی جنریٹڈ ویڈیو میں بالی ووڈ کے گانے ’ناچ میری بلبل کہ پیسہ ملے گا، کہاں قدر دان تجھے ایسا ملے گا‘ کا استعمال کرکے اس مبینہ انکشاف کی منظرکشی کی گئی ہے جس کے مطابق مودی نے ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے رقص کیا۔

نِتن نامی اکاؤنٹ نے ایپسٹین کے دعوے پر بھارتی وزیرِاعظم کی ناچتے ہوئی اے آئی ویڈیو کے ساتھ ایک فرضی مکالمہ بھی لکھا جس میں مودی کو بتایا جارہا ہے کہ ایپسٹین فائلز میں ان کا نام آیا ہے۔

جس پر انہوں نے پوچھا کہ ڈانس کی ویڈیو تو لیک نہیں ہوئی اور نفی میں جواب ملنے پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔

اسی طرح ایک اور ویڈیو میں ایک لڑکے کو کچھ لوگوں کے سامنے رقص کرتے دیکھا جاسکتا ہے، جس کے بعد اسے داد بھی ملتی ہے اور ایک خاتون کی آواز بھی کہتی سنائی دیتی ہیں ’دیکھا ناں! کتنا اچھا ڈانس کرتا ہے‘۔

پرشانت کنوجیا نامی اکاؤنٹ سے ویڈیو کو ’مودی اسرائیل میں صدر ٹرمپ کو خوش کرتے ہوئے‘ لکھ کر شیئر کیا گیا ہے۔

اسپرٹ آف کانگریس نامی ایک اکاؤنٹ نے راہول گاندھی کی ایک تقریر کا ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے اس معاملے سے جوڑا ہے، جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ نریندر مودی کو کوئی اسٹیج پر ناچنے کی شرط پر سیٹ جتوانے کا کہہ دے تو وہ ناچنے کے لیے بھی تیار ہوجائیں گے۔

اس ویڈیومیں راہول گاندھی سے متعلق لکھا گیا ہے ان کا نریندر مودی کے متعلق دعویٰ ایک بار پھر سچ ثابت ہوگیا ہے۔

ایک اور مِیمر نے اے آئی جنریٹڈ ویڈیو میں بالی ووڈ فلم دھرندر سے مشہور ہونے والے عرب گلوکار کے گانے کو استعمال کیا ہے۔

جس میں نریندر مودی کو ناچتے ہوئے جب کہ صدر ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کو انہیں داد دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

دوسری جانب بھارتی وزارتِ خارجہ نے ایپسٹین فائلر کی جاری کردہ نئی دستاویزات میں بھارتی وزیرِاعظم سے متعلق کیے گئے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں اس ای میل پر ردِعمل دیتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ وزیرِاعظم نریندر مودی نے جولائی 2017 میں اسرائیل کا سرکاری دورہ کیا تھا تاہم ای میل میں بیان کردہ مؤقف کو سختی سے مسترد کیا۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیرِاعظم کے جولائی 2017 کے سرکاری دورۂ اسرائیل کے علاوہ ای میل میں کیے گئے دیگر تمام دعوے ایک سزا یافتہ مجرم کی فضول اور گھٹیا سوچ کے عکاس ہیں جنہیں مسترد کیا جانا چاہیے۔