مظاہروں کو پُرتشدد بنانے میں سہولت کاری کرنے والے 139 غیر ملکی گرفتار، ایرانی پولیس کا دعویٰ

بدامنی اور پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث افراد کو سخت قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا: ایرانی حکام
اپ ڈیٹ 03 فروری 2026 06:50pm

ایرانی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے مرکزی صوبے یَزد میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کو پرتشدد بنانے کے لیے سہولت کاری میں ملوث 139 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق گرفتار افراد کی قومیت ظاہر نہیں کی گئی۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یَزد ایران کا ایک صحرائی اور کم آبادی والا صوبہ ہے، جس کی آبادی 10 لاکھ سے کچھ زائد ہے، جنوری میں ملک بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے متاثر ہونے والے صوبوں میں شامل تھا۔

یہ احتجاج دسمبر میں معاشی مشکلات کے خلاف شروع ہوئے اور جلد ہی سیاسی رخ اختیار کر گئے، ان مظاہروں کو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سب سے سخت کریک ڈاؤن کے ذریعے دبایا گیا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 3,117 بتائی گئی ہے جب کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ امریکا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم HRANA کے مطابق اب تک تقریباً 50 ہزار افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ایرانی حکام ان مظاہروں کے پیچھے اسرائیل اور امریکا کا ہاتھ قرار دیتے ہیں۔ یزد کے پولیس کمانڈر احمد نگہبان کے حوالے سے تسنیم نے بتایا کہ گرفتار غیر ملکی افراد نے مبینہ طور پر ہنگامہ آرائی کو منظم کرنے، لوگوں کو اکسانے اور پرتشدد کارروائیوں میں سہولت کاری کرنے میں کردار ادا کیا جب کہ بعض افراد بیرون ملک نیٹ ورکس سے بھی رابطے میں تھے۔

ایرانی عدالتی حکام نے خبردار کیا ہے کہ بدامنی اور پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث افراد کو سخت قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایران کی عدلیہ کے ترجمان اصغر جہانگیر نے منگل کو کہا کہ ”اس امریکی فتنے میں شامل اور اس کی حمایت کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔“

ایرانی میڈیا نے پیر کے روز تہران میں بھی گزشتہ ماہ بدامنی کے سلسلے میں 4 غیر ملکیوں کی گرفتاری کی خبر بھی دی، جو اس سے پہلے کی رپورٹس سے مختلف ہے، جن میں روزانہ کی بنیاد پر مبینہ احتجاجی رہنماؤں کی گرفتاریوں کا ذکر تھا مگر غیرملکی افراد کی نشاندہی نہیں کی گئی تھی۔

رپورٹس کے مطابق جون میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد، جس میں اسرائیل نے اپنے ابتدائی حملوں کے لیے ایران کے اندر موجود ایجنٹس پر انحصار کیا، تہران نے ملک میں مقیم بالخصوص افغان شہریوں کی ملک بدری کی مہم تیز کر دی ہے، جو ایران میں سب سے بڑی غیر ملکی برادری تصور کی جاتی ہے۔