ایران امریکا کشیدگی میں کمی کی کوششوں کو بڑا جھٹکا: امریکی فوج کا ایرانی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
ایران امریکا کشیدگی میں کمی کی کوششوں کو بڑا جھٹکا لگا ہے، امریکی فوج نے ایرانی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کردیا ہے تاہم تہران کی جانب سے اب تک کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی فوج نے بحیرہ عرب میں موجود طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن کی جانب آنے والے ایرانی ڈرون کو مار گرایا۔
امریکی فوج کے ترجمان نیوی کیپٹن ٹِم ہاکنز نے بتایا کہ ایرانی ساختہ شاہد-139 ڈرون ابراہم لنکن طیارہ بردار جہاز کی سمت بڑھ رہا تھا جس پر ایف-35 سی لڑاکا طیارے نے ’’دفاعِ خود‘‘ کے تحت کارروائی کرتے ہوئے اسے تباہ کر دیا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں کسی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی امریکی سازوسامان کو کوئی نقصان ہوا۔
دوسری جانب، امریکی دعوے پر ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں امریکی نیوی بحیرہ عرب میں موجود ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کے امکانات پر سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں خبردار کیا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہو سکا تو ’’سنگین نتائج‘‘ سامنے آ سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ابراہم لنکن کیریئر اسٹرائیک گروپ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کا نمایاں حصہ ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اسی روز آبنائے ہرمز میں ایک اور واقعے میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی کشتیوں اور ایک ڈرون نے امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز کے قریب آکر مبینہ طور پر اسے روکنے اور قبضے میں لینے کی دھمکی دی۔
امریکی فوج کے ترجمان کے مطابق ایرانی کشتیوں اور محاجر ڈرون نے ایم وی اسٹینا امپیریٹو نامی جہاز کے قریب تیز رفتاری سے پہنچ کر کارروائی کی کوشش کی۔
















