ناسا انجینئر کی ایک حادثاتی ایجاد، جو بچوں کا پسندیدہ کھلونا اور اربوں ڈالر کی انڈسٹری بنا

زبردست کمرشل کامیابی سے ملنے والی رقوم سے انہوں نے اٹلانٹا میں اپنا ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر قائم کیا۔
شائع 04 فروری 2026 04:13pm

ایک عام سے دن کی ایک چھوٹی سی غلطی نے دنیا کو ایک ایسا کھلونا دیا جو آج بھی بچوں کی خوشیوں کا سبب ہے۔ امریکی موجد اور سابق ناسا انجینئر ڈاکٹر لونی جانسن نے ’سپر سوکر‘ نامی واٹر گن ایجاد کی، جو تاریخ کے سب سے مشہور کھلونوں میں سے ایک بن گئی۔

ڈاکٹر لونی جانسن 1949 میں الاباما کے ایک علیحدگی پسند علاقے سیگریگیٹڈ میں پیدا ہوئے۔ وہ بچپن سے ہی سائنس کی طرف رجحان رکھتے تھے۔ اس دور میں افریقی نژاد امریکیوں کو شدید نسلی امتیاز کا سامنا تھا، لیکن جانسن نے اسے رکاوٹ نہیں بننے دیا۔

انہوں نے ٹسکجی یونیورسٹی سے مکینیکل انجینئرنگ اور نیوکلیئر انجینئرنگ میں ڈگریاں حاصل کیں اور پھر ناسا میں شمولیت اختیار کی۔ ناسا میں ان کا کام انتہائی اہم تھا، انہوں نے اسٹیلتھ بمبر طیاروں اور گہرے خلائی پروبز جیسے پیچیدہ منصوبوں پر حصہ لیا، جو امریکہ کی خلائی اور دفاعی ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

 (تصویر: بشکریہ بی بی سی)
(تصویر: بشکریہ بی بی سی)

لیکن واٹر گن کی ایجاد ایک مکمل اتفاق تھی۔ 1980 کی دہائی میں، جانسن گھر پر ایک ہیٹ پمپ پر کام کر رہے تھے جب ایک پائپ سے پانی کی تیز دھار نکلی اور ان کی بیٹی کو گیلا کر دیا۔ یہی لمحہ ان کے لیے ایک نئی ایجاد کا آغاز بنا۔

انہوں نے گھر کے بیسمنٹ میں خود پلاسٹک واٹر گن کا پروٹو ٹائپ بنایا، مگر محدود سرمائے کی وجہ سے وہ خود فیکٹری نہیں لگا سکے، اس لیے کسی ٹوائے کمپنی کے ساتھ شراکت داری کی تلاش شروع کی اور یوں کئی برس لگے۔

 (تصویر: بشکریہ بی بی سی)
(تصویر: بشکریہ بی بی سی)

بالآخر 1989 میں ٹوائے کمپنی لارامی کے ساتھ معاہدہ ہوا، پہلے پاور ڈرینچر کے نام سے گن آئی، پھر اسے ری برانڈ کر کے سپر سوکر کے نام سے پیش کیا گیا جو 1990 کی دہائی کے آغاز میں دنیا بھر میں لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہوئی اورکھربوں ڈالر کی آمدنی کا ذریعہ بن چکی ہے۔

 (تصویر: بشکریہ بی بی سی)
(تصویر: بشکریہ بی بی سی)

سپر سوکر اور بعد میں نرف گنز کی زبردست کمرشل کامیابی سے ملنے والی رقوم انہوں نے ذاتی عیش و عشرت پر خرچ نہیں کی بلکہ اٹلانٹا میں اپنا ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر بنانے، نئی بیٹری ٹیکنالوجی (گلاس/سیرامک الیکٹرولائٹ) اور جانسن تھرمو الیکٹروکیمیكل کنورٹر (J-TEC) جیسے جدید انجن پر تحقیق کے لیے استعمال کیں، جو حرارت کو براہِ راست بجلی میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔

 (تصویر: بشکریہ بی بی سی)
(تصویر: بشکریہ بی بی سی)

سی این این 10 کے ایک حالیہ انٹرویو میں، جو بلیک ہسٹری مہینہ کے موقع پر نشر کیا گیا، جانسن نے کہا، ”سائنس ہمیشہ سے میری زندگی کا حصہ رہی ہے۔ ایک چھوٹی سی غلطی بھی بڑی کامیابی کا سبب بن سکتی ہے۔“

ڈاکٹر جانسن آج بھی نوجوانوں کو سائنس کی طرف راغب کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں اور ان کی کمپنی STEM (سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھ) تعلیم کو فروغ دے رہی ہے۔ وہ اسکولوں میں جا کر بچوں کو اپنی ایجادات دکھاتے اور انہیں ہمت دیتے ہیں کہ وہ اپنے ماحول اور مخالف حالات کے باوجود خود پر یقین رکھیں اور کامیاب ہوجائیں۔