’ہیرا پھیری 3 ’ قانونی مسائل کا شکار، فلم کی ریلیز خطرے میں؟
بولی ووڈ کی مشہور کامیڈی فلم سیریز ’ہیرا پھیری3‘ کو ایک بار پھر قانونی مسائل کا سامنا ہے۔
پہلے یہ خبر تھی کہ سپر اسٹار اکشے کمار نے پروڈیوسر فیروز نادیاد والا سے حقوق خرید کر ’ہیرا پھیری 3‘ بنانے کا منصوبہ شروع کیا ہے۔
لیکن اب جنوبی ہند کی پروڈکشن کمپنی سیون آرٹس انٹرنیشنل لمیٹڈ نے عدالت سے رجوع کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ہیرا پھیری فرنچائز کے اصل حقوق ان کے پاس ہیں، نہ کہ نادیاد والا یا اکشے کمار کے پاس۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سیون آرٹس انٹرنیشنل کے منیجنگ ڈائریکٹر جی پی وجے کمار نے بتایا کہ انہوں نے ہیرا پھیری فرنچائز کے مکمل حقوق اصل مالکان سے خریدے تھے جو 1989 کی ملیالم فلم ’رام جی راؤ اسپیکنگ‘ کے پروڈیوسر تھے۔
ان کے مطابق، نادیاد والا کو صرف پہلی فلم کا ہندی ریمیک بنانے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن انہوں نے 2006 میں سیکوئل ’پھر ہیرا پھیری‘ بنا ڈالی، جو مبینہ طور پر معاہدے کی خلاف ورزی تھی۔
رپورٹس کا کہنا ہے کہ، جی پی وجے کمار نے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ انہوں نے 2022 میں ادیتیا فلمز سے ہیرا پھیری فرنچائز کے تمام حقوق خریدے تھے۔
ان کے مطابق اصل پروڈیوسرز نے واضح کیا تھا کہ فیروز نادیاد والا کو نہ تو سیکوئل بنانے کی اجازت تھی اور نہ ہی کرداروں کو دوبارہ استعمال کرنے کا حق حاصل تھا۔
وجے کمار کا کہنا ہے کہ بعد میں جب انہوں نے نیا ہندی ورژن بنانے کا ارادہ کیا اور اکشے سے رابطہ کیا تب انہیں معلوم ہوا کہ فیروز نادیاد والا پہلے ہی ان حقوق کواکشے کمار کی پروڈکشن کمپنی کیپ آف گڈ فلمز کو فروخت کر چکے ہیں۔ اس پر انہوں نے قانونی نوٹس بھیجا اور عدالت میں درخواست دائر کی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کوئی شخص ایسی چیز کیسے بیچ سکتا ہے جس کا وہ مالک ہی نہ ہو؟
فلم کے ممکنہ ہدایتکار پریہ درشن نے کہا کہ انہیں اس قانونی کارروائی کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ اس معاملے پراکشے کمار کی پروڈکشن ٹیم نے کہا کہ انہوں نے یہ یقین کرتے ہوئے کہ نادیاد والا ہی قانونی مالک ہیں حقوق خریدے۔
فیروز نادیاد والا کی طرف سے اب تک کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا اور بھارتی میڈیا کے مطابق ان سے رابطے کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔
واضح رہے کہ راجو، شیام اور بابوراو (اکشے کمار، سنیل شیٹی اور پارش راوال ) کے پسندیدہ کرداروں پر مبنی ’ہیرا پھیری3‘ بولی ووڈ کے سب سے زیادہ منتظر پروجیکٹس میں شمار کی جاتی ہے۔
پچھلے سال یہ پروجیکٹ رک گیا تھا جب پارش راوال فلم سے عارضی طور پر الگ ہو گئے تھے، تاہم بعد میں وہ دوبارہ شامل ہو گئے اور فلم کے میکرز کے ساتھ مسائل حل کر لیے گئے۔















