پاکستان کے میچ کھیلنے سے انکار پر بھارت بوکھلاہٹ کا شکار، پانی کو ہتھیار بنا لیا
جنگ اور کھیل کے میدان میں ہزیمت اٹھانے کے بعد بھارت ایک بار پھر بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا ہے اور اب شکست کا بدلہ آبی جارحیت کے ذریعے لینے کی کوشش کر رہا ہے۔
بھارت نے جنونیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی شروع کر دی ہے اور پاکستان کے حصے کا پانی روکنے کے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں دریائے چناب پر 1856 میگاواٹ کا سوالکوٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے لیے 5 ہزار 129 کروڑ روپے کا ٹینڈر بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سندھ طاس معاہدے سے روگردانی کے بعد یہ بھارت کا پہلا بڑا ڈیم منصوبہ ہے، جس کے ذریعے پاکستان کے حصے کا پانی روکے جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دریائے چناب پر اس منصوبے کی تعمیر سے پاکستان میں پانی کی قلت میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ زرعی شعبہ اور توانائی کے نظام پر منفی اثرات مرتب ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔
وہیں بھارت نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ چناب سے پانی روکنے کی صلاحیت حاصل کر رہا ہے، جو نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ سندھ طاس معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب ملک میں بڑے آبی ذخائر سے پانی کے اخراج میں اضافے اور آمد میں نمایاں کمی کے باعث پانی کا ذخیرہ مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے، جس سے آبی قلت کی صورتحال سنگین شکل اختیار کر گئی ہے۔
تربیلا اور منگلا ڈیم میں پانی کی سطح اور قابلِ استعمال ذخیرہ تشویشناک حد تک دباؤ کا شکار ہو چکا ہے، جبکہ فصلوں کے لیے پانی کی دستیابی پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اس وقت مجموعی قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 7.042 ملین ایکڑ فٹ رہ گیا ہے۔
تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1489.67 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں قابلِ استعمال ذخیرہ صرف 2.6 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ تربیلا میں پانی کی آمد 14.7 ہزار مکعب فٹ فی سیکنڈ جبکہ اخراج 30 ہزار مکعب فٹ فی سیکنڈ ہے، جس کے باعث ذخیرہ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔
اسی طرح منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1200.05 فٹ ہے اور قابلِ استعمال ذخیرہ 4.253 ملین ایکڑ فٹ رہ گیا ہے۔ منگلا میں پانی کی آمد 8.6 ہزار مکعب فٹ فی سیکنڈ جبکہ اخراج 35 ہزار مکعب فٹ فی سیکنڈ ریکارڈ کیا گیا، جو آمد سے کہیں زیادہ ہے۔
دونوں بڑے آبی ذخائر میں اخراج، آمد سے زیادہ ہونے کے باعث صورتحال مزید تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔
چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 41.5 ہزار مکعب فٹ فی سیکنڈ جبکہ اخراج 43 ہزار مکعب فٹ فی سیکنڈ ہے، جس کے نتیجے میں چشمہ بیراج سے نکلنے والی تمام رابطہ نہریں خشک پڑی ہیں۔
تونسہ بیراج میں بالائی بہاؤ 33.5 ہزار مکعب فٹ فی سیکنڈ جبکہ زیریں بہاؤ 27.8 ہزار مکعب فٹ فی سیکنڈ ریکارڈ کیا گیا۔ گڈو بیراج میں بالائی بہاؤ 27.1 اور زیریں بہاؤ 23.6 ہزار مکعب فٹ فی سیکنڈ ہے، جبکہ سکھر بیراج میں بالائی بہاؤ 28.8 ہزار مکعب فٹ فی سیکنڈ کے مقابلے میں زیریں بہاؤ محض 7.6 ہزار مکعب فٹ فی سیکنڈ رہ گیا ہے۔
کوٹری بیراج پر صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ہے، جہاں زیریں بہاؤ صرف ایک ہزار مکعب فٹ فی سیکنڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مرالہ بیراج، رسول، تریموں، سدھنائی اور پنجند بیراج کی صورتحال بھی تشویشناک قرار دی جا رہی ہے۔
ماہرینِ آبی وسائل نے خبردار کیا ہے کہ دریاؤں میں کم بہاؤ زرعی اور ماحولیاتی خطرات میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پانی کے بہتر انتظام اور محتاط استعمال کے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ربیع کی فصلیں شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
آبی ماہرین نے عوام اور متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ پانی کے ضیاع کو روکنے اور دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں، تاکہ ممکنہ زرعی بحران سے بچا جا سکے۔













