پاکستان نے بھارت سے میچ کھیلنے کے بدلے آئی سی سی سے کیا مانگا، اندرونی کہانی سامنے آگئی

پی سی بی نے واضح کیا کہ وہ اپنے لیے کسی قسم کی رعایت یا فائدہ نہیں مانگ رہا
شائع 09 فروری 2026 03:28pm

لاہور میں ہونے والے آئی سی سی، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور بنگلا دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے اہم سہ فریقی مذاکرات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے واضح طور پر کہا کہ وہ اپنے لیے کسی قسم کی رعایت یا فائدہ نہیں مانگ رہا، تاہم بنگلا دیش کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر خاموش نہیں رہ سکتا۔

پی سی بی نے بنگلا دیش کے حق میں مضبوط آواز اٹھاتے ہوئے آئی سی سی سے مطالبہ کیا کہ بنگلا دیش کو ورلڈ کپ کی آمدنی سے اس کا پورا اور جائز حصہ دیا جائے۔

مذاکرات میں یہ مطالبہ بھی سامنے آیا کہ بھارتی کرکٹ ٹیم ستمبر میں بنگلا دیش کا طے شدہ دورہ یقینی بنائے اور کسی بھی یکطرفہ فیصلے سے گریز کیا جائے۔

پاکستان نے آئی سی سی پر زور دیا کہ وہ حکومتی سطح پر کیے گئے فیصلوں کی مکمل پاسداری کی ضمانت دے تاکہ کرکٹ معاملات سیاست کی نذر نہ ہوں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی کہ کسی بھی بورڈ ممبر کو بنگلا دیش کی طرح ورلڈ کپ سے باہر نہیں کیا جائے گا اور تمام فیصلے شفاف، غیر جانبدارانہ اور کھیل کی روح کے مطابق ہوں گے۔

پاکستان کی جانب سے اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ بھارت کو “گیم آف جنٹلمین” کی روایات پر عمل کرنے کا پابند کیا جائے اور کرکٹ کو باہمی احترام اور کھیل کے اصولوں کے تحت آگے بڑھایا جائے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھارتی میڈیا نے بھی دعویٰ تھا کہ پاکستان نے انڈیا کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے پر نظرثانی کے لیے آئی سی سی کے سامنے تین بڑی شرائط رکھی ہیں۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ بہتر فنڈنگ سے بنگلہ دیش کی کرکٹ میں انفراسٹرکچر، کھلاڑیوں کی تیاری اور قومی ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

پی سی بی کی دوسری شرط یہ تھی کہ بنگلہ دیش کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے باہر کیے جانے کے باوجود ایونٹ میں شرکت کی فیس دی جائے۔

جبکہ تیسری شرط کے تحت پی سی بی نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا کہ بنگلہ دیش کو مستقبل میں کسی بڑے آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی دی جائے اور اس حوالے سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کے پاس اب مطلوبہ سہولیات اور شائقین کی بڑی تعداد موجود ہے، جو کسی بھی عالمی ایونٹ کے کامیاب انعقاد کی صلاحیت رکھتی ہے۔