ورزش کے باوجود وزن نہ گھٹنے کی اصل وجوہات، یہ غلطی تو نہیں کر رہے

وزن میں کمی صرف جم میں پسینہ بہانے کا نام نہیں۔
شائع 11 فروری 2026 09:35am

اگر آپ روزانہ جم جاتے ہیں، یوگا یا ورزش کا کوئی سیشن مس نہیں کرتے، لیکن پھر بھی وزن کرنے والی مشین پر وزن کا وہی نمبر دیکھ کر مایوس ہو جاتے ہیں، تو قصور شاید آپ کی محنت کا نہیں بلکہ روزمرہ کی کچھ چھوٹی مگر اہم عادتیں بھی اس کی ذمہ دار ہوسکتی ہے۔

اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ باقاعدہ ورزش ہی وزن کم کرنے کے لیے کافی ہے، لیکن یہ حقیقت نہیں ہے۔ وزن میں کمی صرف جم میں پسینہ بہانے کا نام نہیں، بلکہ اس کا تعلق اس وقت سے بھی ہے جو آپ ورزش کے علاوہ پورے دن میں گزارتے ہیں، یعنی آپ کیا کھاتے ہیں، کیسے سوتے ہیں، کتنا چلتے پھرتے ہیں اور دباؤ کو کس طرح کنٹرول کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق زیادہ تر لوگ ورزش کے دوران جلنے والی کیلوریز کو کافی سمجھ لیتے ہیں۔ فٹنس ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ جسم ورزش کے دوران خرچ ہونے والی توانائی کی تلافی دن کے دوسرے حصوں میں کم حرکت کے ذریعے کر لیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف سخت ورزش کرنا وزن کم ہونے کی ضمانت نہیں۔

تاہم، ورزش چھوڑنا حل نہیں۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ اسٹرینتھ ٹریننگ کو روٹین میں شامل کیا جائے، کیونکہ پٹھے بننے سے جسم کا میٹابولزم تیز ہوتا ہے اور آرام کے وقت بھی زیادہ کیلوریز جلتی ہیں۔

ضرورت سے زیادہ صحت بخش غذا

زیادہ تر ورزش کرنے والے افراد اپنی خوراک کے بارے میں بھی محتاط ہوتے ہیں، مگر ہر صحت بخش چیز وزن کم کرنے میں مددگار نہیں ہوتی۔ غذائی ماہرین کے مطابق گری دار میوے، گھی، ایواکاڈو، اسموودیز اور خشک میوہ جات غذائیت سے بھرپور ضرور ہیں، لیکن کیلوریز میں بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ اگر انہیں زیادہ مقدار میں کھایا جائے تو وزن کم ہونے کی رفتار سست ہو سکتی ہے۔

وزن کم کرنے کے لیے خوراک کے معیار کے ساتھ ساتھ مجموعی کیلوریز پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے۔ اپنی خوراک میں سبزیاں، پروٹین اور ثابت اناج شامل کرنا بھوک کو قابو میں رکھتا ہے، جبکہ چینی، ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس اور اضافی تیل کم کرنا فائدہ مند ہوتا ہے۔

اسنیکس اور مشروبات میں چھپی ہوئی کیلوریز

دن بھر تھوڑا تھوڑا کھاتے رہنا اور کیلوریز والے مشروبات پینا بھی وزن کم ہونے میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔ جوس، میٹھے مشروبات اور بار بار اسنیک کھانا جسم کو ذخیرہ شدہ چربی استعمال کرنے کا موقع ہی نہیں دیتے۔

پروٹین کی کمی

بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کافی پروٹین لے رہے ہیں، مگر حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ورزش کے باوجود پروٹین کم ہو تو جسم پٹھوں کی فعالیت برقرار نہیں رکھ پاتا، جس سے میٹابولزم سست ہو جاتا ہے۔ پروٹین پیٹ بھرنے میں بھی مدد دیتا ہے، اس لیے اس کی کمی بار بار بھوک اور زیادہ کھانے کا سبب بن سکتی ہے۔

ہر کھانے میں انڈے، دودھ، دالیں، مچھلی یا گوشت کی شکل میں پروٹین شامل کرنا وزن کم کرنے میں نمایاں فرق لا سکتا ہے۔

جم کے علاوہ دن بھر کی حرکت

صرف ایک گھنٹہ ورزش پورے دن بیٹھے رہنے کے اثرات کو ختم نہیں کر سکتا۔ ماہرین کے مطابق دن بھر کی ہلکی پھلکی حرکت، جیسے زیادہ چلنا، سیڑھیاں چڑھنا، وقفے وقفے سے کھڑے ہونا یا ہلکی اسٹریچنگ، کیلوریز جلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

نیند اور دباؤ: نظرانداز کیے گئے عوامل

نیند کی کمی ہارمونز کو متاثر کرتی ہے، جس سے بھوک بڑھتی ہے اور میٹھی یا چکنی چیزوں کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جسم میں دباؤ بڑھتا ہے، جو چربی جمع ہونے کا سبب بن سکتا ہے، خاص طور پر پیٹ کے ارد گرد۔

اسی طرح مسلسل ذہنی دباؤ جسم میں کورٹیسول ہارمون کو بڑھاتا ہے، جو وزن کم ہونے کے عمل کو مزید مشکل بنا دیتا ہے اور جذباتی کھانے کی عادت کو فروغ دیتا ہے۔

مناسب آرام نہ کرنا

زیادہ ورزش کرنا ہمیشہ بہتر نہیں ہوتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جسم ورزش کے دوران نہیں بلکہ آرام کے دوران مضبوط ہوتا ہے۔ مسلسل ورزش اور مناسب ریکوری نہ ملنے سے تھکن، ہارمونل عدم توازن اور چوٹوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جس سے وزن کم ہونا رک سکتا ہے۔

ایسی ورزش بہتر ہوتی ہے جس میں کارڈیو، اسٹرینتھ ٹریننگ اور فلیکسیبیلٹی ایکسرسائزز شامل ہوں۔

اگر آپ پوری محنت کے باوجود وزن کم نہیں کر پا رہے، تو وقت آ گیا ہے کہ ورزش کے ساتھ ساتھ اپنی روزمرہ عادتوں پر بھی نظر ڈالیں۔ بہتر نیند، متوازن غذا، مناسب پروٹین، دن بھر کی حرکت، دباؤ پر قابو اور آرام، یہی وہ عناصر ہیں جو وزن کم کرنے کے سفر کو واقعی کامیاب بناتے ہیں۔