سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ گھر میں گرنے سے زخمی، اسپتال منتقل
پاکستان فوج کے سابق سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اپنے گھر میں گر کر زخمی ہوگئے ہیں۔ مختلف ملکی اور غیر ملکی نشریاتی اداروں نے خاندانی ذرائع سے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔
پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والی رپورٹس کے مطابق سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ بیت الخلا میں پھسلنے کی وجہ سے زخمی ہوگئے اور اس وقت وہ راولپنڈی کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
صحافی ارشاد بھٹی نے سابق آرمی چیف کے خاندانی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ منگل کی صبح پیش آیا۔ پھسلنے کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوئے اور ان کے جسم کے مختلف حصوں پر زخم آئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سر پر آنے والی چوٹ کی وجہ سے وہ کچھ دیر بے ہوشی کی حالت میں چلے گئے تھے۔ تاہم ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اب وہ مکمل ہوش میں ہیں اور اپنے دونوں بیٹوں سے ملاقات بھی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ باجوہ تاحال انتہائی نگہداشت وارڈ (آئی سی یو) میں داخل ہیں اور مکمل طور پر خطرے کی حالت سے باہر نہیں آئے ہیں۔
صحافی زاہد گشکوری نے بھی قمر جاوید باجوہ کے اہلِ خانہ کے حوالے سے اس حادثے کی تصدیق کی ہے۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں زاہد گشکوری نے بتایا ہے کہ حادثے کے بعد انہیں فوری طور پر ملٹری اسپتال راولپنڈی منتقل کیا جہاں ڈاکٹرز نے ان کے زخموں کا معائنہ کیا۔
زاہد گشکوری کا کہنا ہے کہ سابق آرمی چیف کے دونوں بیٹے پاکستان پہنچ چکے ہیں اور والد کے ساتھ اسپتال میں موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز کی ٹیم سابق آرمی چیف کی دیکھ بھال کر رہی ہے، ان کی حالت اب بہتر ہے اور مزید مشورے تک وہ اسپتال میں ہی رہیں گے۔
قمر جاوید باجوہ کو نومبر 2016 میں اُس وقت کے وزیرِاعظم نواز شریف نے پاک فوج کا 16 واں سربراہ مقرر کیا تھا۔
ان کی تین سالہ مدتِ مکمل ہونے کے قریب پہنچی تو اس سے قبل ہی اگست 2019 میں سابق وزیرِاعظم عمران خان کی حکومت نے ان کی مدتِ ملازمت میں 3 سال کی توسیع کر دی۔ قمر جاوید باجوہ 6 سال تک پاک فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد نومبر 2022 میں ریٹائر ہوگئے تھے۔













