ڈسپوزایبل ورکر سنڈروم: 90 کی دہائی کے ملازمین کو نوکری جانے کا خوف کیوں ہے؟

ڈسپوزایبل ورکر سنڈروم دراصل ایک وارننگ بھی ہے اور ایک موقع بھی۔
شائع 18 فروری 2026 03:24pm

ایک وقت تھا جب نوکری کو زندگی کا سب سے مضبوط سہارا سمجھا جاتا تھا۔ لوگ ایک ادارے میں شامل ہوتے، برسوں محنت کرتے، ترقی حاصل کرتے اور ریٹائرمنٹ تک خود کو محفوظ محسوس کرتے تھے۔ لیکن اب کام کی دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ ٹیکنالوجی، خاص طور پر اے آئی نے کام کرنے کے طریقوں کو بدل دیا ہے۔

اس تبدیلی کے ساتھ ایک نیا احساس بھی جنم لے رہا ہے، جسے کئی ماہرین ”ڈسپوزایبل ورکر سنڈروم“ کا نام دے رہے ہیں۔

یہ احساس دراصل نوکری ختم ہونے کے فوری خوف سے مختلف ہے۔ یہاں اصل پریشانی یہ ہے کہ کہیں انسان کی اہمیت کم نہ ہو جائے۔ بہت سے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ وہ جو کام آج کر رہے ہیں، کل وہی کام کوئی سافٹ ویئر یا مشین زیادہ تیزی اور کم خرچ میں کر سکتی ہے۔ یہ سوچ کو متاثر کر رہی ہے کہ آیا مستقبل میں ان کی مہارتوں کی اتنی ہی ضرورت رہے گی یا نہیں؟

یہ صورتحال خاص طور پر ان لوگوں کے لیے زیادہ حساس ہے جو اپنے کیریئر کے درمیانی مرحلے میں ہیں۔ اس مرحلے پر انسان نہ صرف پیشہ ورانہ شناخت بنا چکا ہوتا ہے بلکہ اس کی زندگی کی بہت سی ذمہ داریاں بھی اسی آمدن سے جڑی ہوتی ہیں۔ ایسے میں اگر کام کی نوعیت بدلنے لگے تو انسان صرف پیشہ ورانہ نہیں بلکہ ذہنی دباؤ کا بھی شکار ہو سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی کوئی اگر نیا کام مجبوری میں اسٹارٹ کرے تو ذہنی دباؤ اور آئیڈنٹیٹی کرائیسس یا شناخت کے بحران کا شکار ہوسکتا ہے۔

مصنوعی ذہانت نے بلاشبہ کام کو آسان بنایا ہے۔ بہت سے پیچیدہ اور وقت لینے والے کام اب چند لمحوں میں مکمل ہو جاتے ہیں۔ اس سے اداروں کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے اور نئے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک سوال بھی پیدا ہوا ہے کہ اگر مشینیں زیادہ تر کام کرنے لگیں تو انسان کا کردار کیا رہ جائے گا۔

یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ اب صرف تجربہ ہی کافی نہیں رہا۔ ماضی میں برسوں کا تجربہ ملازمت کے تحفظ کی علامت سمجھا جاتا تھا، لیکن اب حالات مختلف ہیں۔

آج سیکھنے کی رفتار زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ جو لوگ نئی مہارتیں سیکھ رہے ہیں اور خود کو بدلتے وقت کے مطابق ڈھال رہے ہیں، وہ نسبتاً زیادہ پراعتماد محسوس کرتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ تبدیلی سے دور رہتے ہیں، ان میں بہت زیادہ غیر یقینی پائی جاتی ہے۔

اس صورتحال کا ایک مثبت پہلو بھی ہے۔ بہت سے لوگوں نے سیکھنے کے عمل کو دوبارہ شروع کیا ہے۔ وہ نئی چیزیں سیکھ رہے ہیں، اپنی صلاحیتوں کو وسیع کر رہے ہیں اور خود کو ایک ہی مہارت تک محدود نہیں رکھ رہے۔ اس سے ان کی پیشہ ورانہ شناخت زیادہ مضبوط اور لچکدار ہو رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اس کے بارے میں ہمارا تصور ہے۔ اگر ٹیکنالوجی کو مقابل سمجھا جائے تو خوف پیدا ہوتا ہے، لیکن اگر اسے ایک مددگار کے طور پر دیکھا جائے تو یہ ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ ابتدا میں خوف پیدا ہوا، لیکن وقت کے ساتھ انسان نے خود کو اس کے مطابق ڈھال لیا۔

آج کے دور میں شاید سب سے اہم چیز مستقل سیکھنے کی عادت ہے۔ اب کیریئر کا مطلب ایک ہی راستے پر چلتے رہنا نہیں بلکہ وقت کے ساتھ خود کو بدلنا ہے۔ مستقبل میں کامیاب وہی لوگ ہوں گے جو خود کو صرف اپنے عہدے سے نہیں بلکہ اپنی سیکھنے کی صلاحیت سے پہچانیں گے۔

ڈسپوزایبل ورکر سنڈروم دراصل ایک وارننگ بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ یہ وارننگ ہے کہ دنیا بدل رہی ہے اور موقع ہے کہ انسان خود کو اس تبدیلی کے لیے تیار کرے۔ آخرکار، انسان کی اصل طاقت اس کی سیکھنے، سوچنے اور خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت ہی ہے، اور یہی صلاحیت اسے ہمیشہ اہم بنائے رکھ سکتی ہے۔