خیبر پختونخوا کے سیکیورٹی اکاؤنٹس میں 8 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

یہ انکشاف 2007 سے 2024 تک صوبے کے اٹھارہ اضلاع کے ڈپازٹ اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کے دوران سامنے آیا ہے۔
شائع 22 فروری 2026 08:50am

خیبرپختونخوا کے سیکیورٹی ڈپازٹ اکاؤنٹس میں آٹھ ارب روپے سے زائد کی خورد برد اور مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ انکشاف 2007 سے 2024 تک صوبے کے اٹھارہ اضلاع کے ڈپازٹ اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کے دوران سامنے آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹھیکیداروں کو سیکیورٹی اکاؤنٹس سے پانچ کروڑ 53 لاکھ روپے کی بوگس ادائیگیاں کی گئیں۔

اسی طرح سیکیورٹی ہیڈ سے 10 کروڑ 82 لاکھ روپے کی مشکوک ادائیگیوں کا بھی پتہ چلا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان ادائیگیوں کی نوعیت اور قانونی حیثیت کا مزید جائزہ لیا جا رہا ہے۔

دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 53 کروڑ 54 لاکھ روپے کا ترقیاتی فنڈ غیر قانونی طور پر منتقل کیا گیا۔

اس کے علاوہ اکاؤنٹس کے ڈیجیٹل اور مینوئل ریکارڈ میں چھ ارب 30 کروڑ روپے کا واضح فرق پایا گیا، جس نے مالی نگرانی کے نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 25 کروڑ 96 لاکھ روپے کی پنشن ادائیگیاں بھی غیر قانونی طور پر کی گئیں۔

مزید برآں پشاور، باجوڑ سمیت پانچ اضلاع میں ایک ارب 23 کروڑ روپے کے ریکارڈ کو مشکوک قرار دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ان بے ضابطگیوں کی نشاندہی کے بعد متعلقہ حکام کو آگاہ کر دیا گیا ہے اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے کارروائی متوقع ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کے بعد ہی حتمی ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے گا اور اگر کسی کی غفلت یا بدعنوانی ثابت ہوئی تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔