’ایران کی جانب سے پہلے حملہ کرنے کا کوئی ثبوت نہیں تھا‘: پینٹاگون کی کانگریس کو بریفنگ

ڈیموکریٹ رہنماؤں نے صدر ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک اختیاری جنگ ہے اور اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔
شائع 02 مارچ 2026 03:56pm

امریکی محکمہ دفاع ’پینٹاگون‘ نے کانگریس کو بریفنگ میں بتایا ہے کہ ایسی کوئی خفیہ اطلاع موجود نہیں تھی جس سے ظاہر ہو کہ ایران امریکا پر پہلے حملے کی تیاری کر رہا تھا۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق اتوار کو ہونے والے بند کمرہ اجلاسوں میں ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے کانگریس کے عملے کو اس بارے میں آگاہ کیا۔

ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’رائٹرز‘ بتایا کہ ایران کی جانب سے عمومی خطرات ضرور تھے، لیکن امریکا پر فوری یا پیشگی حملے کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا۔

امریکی حکام کے مطابق ایران کے خلاف کی گئی کارروائیوں میں ایک ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں میزائل تنصیبات، فضائی دفاعی نظام اور بحری جہاز شامل تھے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ان حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ عہدیدار مارے گئے۔ امریکی فوج نے بتایا کہ بی ٹو اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے زیر زمین تنصیبات پر دو ہزار پاؤنڈ وزنی بم گرائے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ان کا مقصد امریکی عوام کا دفاع کرنا اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو کارروائیاں ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں۔

تاہم اتوار کی بریفنگ میں حکام نے تسلیم کیا کہ ایران کی جانب سے امریکا پر پہلے حملے کی کوئی مصدقہ خفیہ اطلاع موجود نہیں تھی، جو اس جنگ کے جواز سے متعلق سوالات کو جنم دے رہی ہے۔

ڈیموکریٹ رہنماؤں نے صدر ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک اختیاری جنگ ہے اور اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔

بعض ارکان نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ امن مذاکرات ترک کرنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا، جبکہ عمان جیسے ثالث ممالک کا کہنا تھا کہ بات چیت کے امکانات موجود تھے۔

ادھر امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس تنازع میں تین امریکی فوجی ہلاک اور پانچ شدید زخمی ہوئے ہیں۔ سینٹرل کمانڈ کے مطابق کئی دیگر اہلکاروں کو معمولی چوٹیں بھی آئیں۔

ایک حالیہ سروے کے مطابق 27 فیصد امریکی شہری حملوں کی حمایت کرتے ہیں جبکہ 43 فیصد نے مخالفت کی اور 29 فیصد غیر یقینی کا شکار ہیں۔

رپورٹس کے مطابق سی آئی اے کئی ماہ سے ایرانی قیادت کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھی اور اسرائیل کے ساتھ یہ تمام انٹیلی جنس شیئر کی گئی تھی۔ حملے بیک وقت تین مختلف مقامات پر ایک ہی منٹ میں کیے گئے، جسے حکام نے حیران کن کارروائی قرار دیا۔

وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی ممکنہ نئی قیادت امریکا سے بات چیت پر آمادہ ہو سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ وہ بالآخر بات کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم فی الحال فوجی کارروائی جاری رہے گی۔