’طویل جنگ کے لیے تیار ہیں‘، ایرانی حکام کی امریکا سے رابطے کی خبروں کی تردید
ایران نے امریکا کے ساتھ خفیہ رابطوں سے متعلق میڈیا رپورٹس کو مسترد کردیا ہے۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی قسم کے امریکی پیغامات کا جواب دینے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز نے ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکا کو کوئی پیغام نہیں بھیجا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران امریکا کی جانب سے بھیجے گئے کسی بھی قسم کے پیغامات کا جواب بھی نہیں دے گا۔
ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی ممکنہ طویل جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور ملک کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا چکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے حالیہ دنوں میں امریکا سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی ہے تاہم اسے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
الجزیرہ نے امریکی خبر رساں ادارے کی اس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کو شبہ ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان پسِ پردہ رابطے جاری ہیں جس پر اسرائیلی وزیراعظم نے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے نیتن یاہو بتایا کہ ایران کی جانب سے خطے کے بعض ثالثوں کے ذریعے پیغامات موصول ہوئے تھے تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے ان پیغامات کو نظرانداز کر دیا ہے۔
ایرانی حکام نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان اس حوالے سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہوا ہے اور نہ ہی ایسی کوئی کوشش کی گئی ہے۔














