ایران پر حملوں سے سٹے بازوں کی چاندی، فوجی کارروائی کی معلومات پہلے سے لیک کی گئیں؟
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حالیہ فضائی حملوں نے جہاں دنیا بھر میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے، وہی اب واشنگٹن میں ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ اس بار بحث کا مرکز وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان حملوں کی پیش گوئی پر جوا کھیل کر لاکھوں ڈالر کمائے ہیں۔
’پولی مارکیٹ‘ اور ’کالشی‘ جیسے پلیٹ فارمز، جہاں مختلف عالمی واقعات کے نتائج پر شرطیں لگائی جاتی ہیں، وہاں کچھ صارفین کی غیر معمولی جیت نے یہ سوالات اٹھا دیے ہیں کہ کیا انہیں ان حملوں کے بارے میں پہلے سے کوئی اندرونی معلومات حاصل تھیں۔
رپورٹس کے مطابق، ایک آن لائن صارف نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے اقتدار سے ہٹنے کی شرط پر صرف ایک دن میں پانچ لاکھ ڈالر سے زائد کا منافع کمایا۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس صارف نے یہ شرط خبر عام ہونے سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے اس وقت لگائی تھی جب حملے کے امکانات بہت کم نظر آ رہے تھے۔
اسی طرح کے کئی دوسرے اکاؤنٹس بھی سامنے آئے ہیں جنہوں نے فروری میں ہی اپنی سرمایہ کاری صرف ایران سے متعلقہ شرطوں پر لگائی تھی۔
ان واقعات نے امریکی قانون سازوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کہ کہیں جنگ اور انسانی جانوں کے ضیاع کو پیسے کمانے کا ذریعہ تو نہیں بنایا جا رہا۔
امریکی سیاست کے دونوں دھڑے یعنی ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز اس صورتحال پر سخت ناراض ہیں۔
کچھ سینیٹرز کا کہنا ہے کہ یہ عمل نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ جمہوریت اور عوامی تحفظ کے لیے بھی خطرناک ہے۔
ان کا موقف ہے کہ کھیلوں پر جوا کھیلنا ایک الگ بات ہے، لیکن جنگ اور سفارتی بحرانوں پر شرطیں لگانا ریاست کی سالمیت کے خلاف ہے۔
کچھ حکام نے تو ان پلیٹ فارمز پر مکمل پابندی لگانے کے لیے فوری قانون سازی کا مطالبہ بھی کر دیا ہے تاکہ سرکاری عہدوں پر بیٹھے افراد ان معلومات کا غلط فائدہ نہ اٹھا سکیں۔
دوسری جانب، ان پلیٹ فارمز کا اپنا دفاعی مؤقف ہے۔
’کالشی‘ نامی ادارے کا کہنا ہے کہ وہ موت یا تشدد سے جڑے واقعات پر براہ راست منافع کمانے کی اجازت نہیں دیتے اور انہوں نے ایران سے متعلقہ شرطوں پر ہونے والے نقصانات کو واپس بھی کر دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پیش گوئی مارکیٹیں دنیا میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔
اس کے برعکس ’پولی مارکیٹ‘ کا ماننا ہے کہ عوامی رائے کا تجزیہ کر کے وہ ایسی معلومات فراہم کرتے ہیں جو ٹی وی چینلز یا سوشل میڈیا نہیں دے پاتے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کمپنیوں کے تار موجودہ امریکی انتظامیہ سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر ان کمپنیوں کے مشاورتی بورڈ میں شامل رہے ہیں، اور ان اداروں کے کئی سابق ملازمین اب حکومت کے اہم عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔
اس سیاسی وابستگی نے بحث کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا امریکی حکومت ان ’پیش گوئی مارکیٹوں‘ کو باقاعدہ قانونی دائرے میں لاتی ہے یا جنگ پر جوا کھیلنے کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہتا ہے۔












