سری لنکا نے دوسرے ایرانی جہاز کے عملے کو بچا لیا

گزشتہ روز ایرانی جہاز ’دینا‘ کو امریکا نے سمندر میں ڈبو دیا تھا جس میں 80 سے زائد ایرانی اہلکار مارے گئے تھے۔
اپ ڈیٹ 05 مارچ 2026 11:04pm

سری لنکا نے جمعرات کو ایرانی بحری جہاز بشر کے 208 عملے کے ارکان کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے، عرب خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق یہ جہاز ان تین ایرانی بحری جہازوں کے گروہ کا حصہ ہے جو بھارت میں منعقدہ ایک بین الاقوامی بحری تقریب میں شرکت کے بعد واپس لوٹ رہا تھا۔

گزشتہ روز ایرانی جہاز ’دینا‘ کو امریکا نے سمندر میں ڈبو دیا تھا جس میں 80 سے زائد ایرانی اہلکار مارے گئے تھے۔ اب یہ دوسرا جہاز تھا جو سری لنکا کے قریب پہنچا اور اطلاعات کے مطابق اس نے مقامی حکام سے رابطہ کیا۔

سری لنکن صدر انورا کمارا دیسانایکے نے ٹیلی ویژن پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس تنازع میں کسی جانب داری نہیں کر رہے، لیکن اپنی غیر جانبداری برقرار رکھتے ہوئے انسانی جانیں بچانے کے لیے اقدام کر رہے ہیں۔ کوئی بھی شخص اس طرح کی جنگ میں نہیں مرنا چاہیے، ہر زندگی یکساں اہمیت رکھتی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق سری لنکا کی بحریہ اب ایرانی بحری جہاز بشر کا انتظام سنبھالے گی اور اسے شمال مشرقی بندرگاہ ٹرنکومالی منتقل کرے گی تاکہ حملے کے خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔ جہاز پر موجود ایرانی عملے اور کیڈٹس کو ساحل پر منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ ان کی حفاظت ہو سکے۔

جہاز کے عملے نے بتایا تھا کہ انہیں انجن میں خرابی کا سامنا ہے اور انہوں نے بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی اجازت مانگی ہے۔

دوسری جانب، ایرانی فریگیٹ دینا جو بدھ کو بھارتی بندرگاہ ویساکھاپٹنم سے واپس آرہی تھی اور بغیر ہتھیار کے تھی، امریکی حملے میں اسے نشانہ بنایا گیا۔ ایران کے بھارت میں سفیر محمد فتح علی کے مطابق، جہاز پر تقریباً 130 افراد سوار تھے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی حملے کی شدید مذمت کی اور خبردار کیا کہ واشنگٹن اس اقدام پر شدید پچھتائے گا۔

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ایکس پر لکھا کہ امریکا نے بین الاقوامی پانیوں میں، ایران سے 2,000 میل دور، ایک فریگیٹ دینا پر بغیر کسی وارننگ کے حملہ کیا۔ یہ سنگین اقدام امریکا کے لیے خطرناک مثال بنے گا۔

سری لنکا کی حکومت اس وقت ایک انتہائی نازک صورت حال سے دوچار ہے۔ اگرچہ اس نے جاری جنگ میں کسی بھی فریق کی حمایت نہیں کی ہے اور وہ تنازع کے مرکز سے دور ہے، لیکن اس ملک کو تقریباً اس لڑائی میں گھسیٹ لیا گیا ہے۔