تہران کی پالیسیوں پر بیان دینا انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کا کام نہیں: ایران
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز، ایران کے میزائل پروگرام یا تہران کی پالیسیوں پر بیان بازی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کا کام نہیں۔
اتوار کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ آئی اے ای اے (انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی) کا مینڈیٹ صرف نگرانی اور تصدیق ہے، آبنائے ہرمز، ایران کے میزائل پروگرام یا تہران کی پالیسیوں سے متعلق سیاسی بیانات آئی اے ای کا کام نہیں، ادارے پیشہ ورانہ جانب داری، سیاست یا ذاتی مفادات کی نذر ہو جائیں تو اپنی ساکھ کھو دیتے ہیں۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایسے اداروں کی وقت کے ساتھ ساتھ اہمیت کم ہوتی جاتی ہے، آئی اے ای کے سیاسی منشور کے مطابق ادارے کی بنیادی ذمہ داری ایٹمی پروگراموں کی نگرانی اور تصدیق کرنا ہے تاکہ جوہری مواد صرف پُرامن مقاصد کے لیے استعمال ہو۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کی جانب سے بین الاقوامی اداروں کے بعض بیانات پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور تہران کا مؤقف ہے کہ عالمی اداروں کو صرف اپنے تکنیکی اور طے شدہ دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے سربراہ نے مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال کو “خطرناک” قرار دیتے ہوئے اسے 1970 کی دہائی کے تیل بحران سے بھی زیادہ سنگین قرار دیا تھا۔
آئی اے ای اے کے سربراہ نے کہا تھا کہ بڑھتے ہوئے عالمی توانائی دباؤ کو کم کرنے کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ایک بہتر اقدام ہو سکتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ایشیا میں ایندھن کی قلت کی نشاندہی کرتے ہوئے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کو اپنے دشمنوں اور ان کے اتحادیوں کے لیے بند کر دیا تھا، یہ اقدام 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مبینہ جارحیت کے بعد اٹھایا گیا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ سے ایران نے کنٹرول مزید سخت کر دیے ہیں جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بحری جہازوں اور بندرگاہوں پر غیر قانونی پابندی کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق ان اقدامات کو پاکستان کی ثالثی سے 8 اپریل کو ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود ایران سے متعلق خام تیل کی شپنگ سرگرمیوں کے جاری رہنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔












