’لاہور کی نکاح والی گلی‘: کریم آباد انڈر پاس کی ویڈیو شیئر کرنے پر میئر کراچی تنقید کی زد میں آگئے

'اس انڈرپاس سے تو کوئی پتلی سی حسینہ ہی گزر سکتی ہے': سوشل میڈیا صارفین کے مزاحیہ تبصرے، لاہور سے موازنہ
اپ ڈیٹ 05 مارچ 2026 07:15pm

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب صدیقی کو کریم آباد انڈر پاس کی ایک ویڈیو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کرنے کے بعد عوام کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔

میئر کراچی نے 2 مارچ 2026 کی رات دیر گئے ایک ویڈیو ٹویٹ کی جس کا مقصد عوام کو یہ دکھانا تھا کہ انڈر پاس کی تعمیر کا کام کافی حد تک مکمل ہو چکا ہے۔

تاہم شہریوں اور سوشل میڈیا صارفین نے اس ویڈیو کو پسند کرنے کے بجائے اس پر شدید ناراضی کا اظہار کیا اور ویڈیو کے اسکرین شاٹس شیئر کرتے ہوئے اسے ناقص منصوبہ بندی قرار دیا ہے۔

صارفین کا کہنا ہے کہ یہ انڈر پاس جس طریقے سے بنایا گیا ہے وہ ٹریفک انجینئرنگ اور حفاظتی اصولوں کے بالکل خلاف ہے۔

تنقید کرنے والوں نے نشاندہی کی ہے کہ اس انڈر پاس میں سڑک کے اطراف کوئی اضافی جگہ یا ایمرجنسی مارجن نہیں رکھا گیا۔

اس ڈیزائن کے حوالے سے سب سے بڑا خدشہ یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر انڈر پاس کے اندر کوئی گاڑی یا ٹرک خراب ہو جاتا ہے تو پیچھے سے آنے والی ٹریفک کے لیے کوئی راستہ نہیں بچے گا۔

شہریوں کے مطابق بریک ڈاؤن لین کی عدم موجودگی کی وجہ سے نہ صرف پورا راستہ بند ہو جائے گا بلکہ ایمبولینس اور فائر بریگیڈ جیسی ہنگامی خدمات کی رسائی بھی ناممکن ہو جائے گی۔

شہریوں نے تنگ انڈرپاس کے اندر پلرز پر بھی تنقید کی۔

جبکہ ایک صارف نے اسے ’لاہور کی نکاح والی گلی‘ قرار دیا۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے کراچی کے اس انڈر پاس کا موازنہ لاہور کے انڈر پاسز سے کرتے ہوئے لکھا کہ ”لاہور کے سب سے کم ترقی یافتہ علاقے میں بھی اس سے بہتر راستے موجود ہیں“۔

شہریوں نے میئر کراچی پر زور دیا ہے کہ شہری منصوبہ بندی میں صرف وقتی طور پر ٹریفک کی روانی دکھانے کے بجائے پائیداری اور عوام کی سلامتی کو ترجیح دینی چاہیے۔

صارفین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے نامکمل اور ناقص ڈیزائن والے منصوبے مستقبل میں بڑے حادثات اور شدید ٹریفک جام کا سبب بن سکتے ہیں۔

کچھ صارفین نے ویڈیو پر مزاحیہ تبصرے کرتے ہوئے کہا کہ ”اس انڈر پاس سے صرف پتلی سی حسینہ ہی گزر سکتی ہے“۔

دوسری جانب کراچی کے ایک صحافی عاطف حسین نے ناقدین کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ”کلپ میں انڈر پاس کا ایک ٹریک نظر آرہا ہے ورنہ یہ انڈر پاس کافی بڑا ہے اور اس کے فعال ہو جانے کے بعد عوام کو کافی سہولت میسر آئے گی“۔

انہوں نے مزید کہا کہ ”تعمیر پر تنقید کرنے والے انجینئر نہیں ہیں، جو لکھ رہے ہیں سیاسی مخالفت میں لکھ رہے ہیں، انڈر پاس فعال ہوگا تو ساری خامیاں خوبیاں سامنے آجائیں گی“۔

کریم آباد انڈر پاس کی تعمیر کا آغاز مئی 2023 میں ہوا تھا اور اسے ابتدائی طور پر 10 ماہ کی مدت میں مکمل کر کے اکتوبر 2024 میں کھولا جانا تھا، تاہم، اس کے تاخیر کا شکار ہونے کی وجہ فنی رکاوٹیں بتائی گئی تھیں۔ اس تاخیر نے علاقے کے دکانداروں اور وہاں سے گزرنے والے مسافروں کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رکھی ہیں۔

اوریجنل پی سی ون کے مطابق اس منصوبے کی تخمینہ لاگت 1.34 ارب روپے تھی۔ تاہم، محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات (پی اینڈ ڈی) کے مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن سیل (ایم ای سی) نے 30 جنوری کو وزیراعلیٰ سندھ کو جو رپورٹ جمع کرائی اس کے مطابق اب لاگت 3 ارب 81 کروڑ 7 لاکھ 47 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔