ایران کا امریکی طیارہ بردار جہاز ’ابراہم لنکن‘ پر ڈرون حملوں کا دعویٰ
ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس (آئی آر جی سی نیوی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحیرۂ عمان میں امریکی طیارہ بردار جہاز ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ کو جدید ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے جس کے بعد امریکی جہاز خلیج عمان سے فاصلے پر جا چکا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی طیارہ بردار جہاز کو ایران کی سمندری حدود سے تقریباً 340 کلومیٹر کے فاصلے پر بحیرۂ عمان میں ہدف بنایا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن اور اس کے ہمراہ موجود امریکی جنگی جہاز ایران کے خلاف امریکی فوجی سرگرمیوں کے تناظر میں علاقے میں داخل ہوئے تھے اور ان کا مقصد جنگ کے دوران اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی نگرانی اور کنٹرول کرنا تھا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے بعد طیارہ بردار جہاز اور اس کے ساتھ موجود امریکی دیگر جہاز تیزی سے علاقے سے دور جاتے ہوئے دیکھے گئے۔
دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع ’پینٹاگون‘ کی جانب سے طیارہ بردار جہاز پر حملے، ممکنہ نقصان یا اس کے اچانک پیچھے ہٹنے کی وجوہات پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ چینلز نے ہفتے کے روز بھی یو ایس ایس ابراہم لنکن کو چار بیلسٹک میزائلوں سے بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔
واضح رہے کہ پاسدارانِ انقلاب فورس نے جمعرات کو بھی ایرانی بحری جہاز پر امریکی حملے کے جواب میں خلیجِ فارس میں امریکی آئل ٹینکر پر میزائل حملے کا دعویٰ کیا تھا۔
دوسری جانب امریکی افواج نے سری لنکا کے قریب سمندری حدود میں ایرانی بحریہ کے فریگیٹ ’دینا‘ پر حملہ کیا تھا۔ امریکی حکام نے اب تک ایران کے 30 سے زائد بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔











