ویسٹ انڈین کھلاڑی سمیت 2 ٹیم آفیشلز کرپشن الزامات پر معطل
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ویسٹ انڈیز کے کرکٹر جیون سیئرلز اور دو ٹیم آفیشل چترانجن راٹھور اور ٹریون گرفتھ پر اینٹی کرپشن کوڈ کی مختلف خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے تینوں کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔
آئی سی سی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق تینوں افراد پر کرکٹ ویسٹ انڈیز اور آئی سی سی کے اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ الزامات 2023/24 کے بیم 10 ٹورنامنٹ سے متعلق ہیں جو کرکٹ ویسٹ انڈیز کے اینٹی کرپشن کوڈ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹائٹنز ٹیم کے مالک چترانجن راٹھور پر سی ڈبلیو آئی کوڈ کے تحت تین الزامات عائد کیے گئے ہیں جب کہ ویسٹ انڈین کرکٹر جیون سیئرلز کو چار الزامات کا سامنا ہے۔ ٹیم آفیشل ٹریون گرفِتھ پر سی ڈبلیو آئی کوڈ کے تحت چار جب کہ آئی سی سی اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت ایک الزام عائد کیا گیا ہے۔
آئی سی سی کے مطابق تینوں افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے بیم 10 ٹورنامنٹ کے میچوں کے نتائج، پیش رفت یا دیگر پہلوؤں پر غیر قانونی اثر انداز ہونے یا اس کے لیے کوشش کرنے میں ملوث ہونے کا عمل کیا یا اس میں حصہ لیا۔
اس کے علاوہ ان پر کھلاڑیوں یا معاون عملے کو اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی پر آمادہ کرنے، ہدایت دینے یا اس کی حوصلہ افزائی کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ تینوں افراد پر اینٹی کرپشن حکام کی تحقیقات میں مناسب تعاون نہ کرنے کا الزام بھی شامل ہے۔
مزید برآں جیون سیئرلز اور ٹریون گرفِتھ پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے کرکٹ ویسٹ انڈیز کو ایسے کسی بھی رابطے یا دعوت سے آگاہ نہیں کیا جو اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتی تھی۔
آئی سی سی کے مطابق ٹریون گرفِتھ پر ایک اضافی الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اینٹی کرپشن یونٹ کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے ممکنہ شواہد یا معلومات کو چھپایا یا ان میں رد و بدل کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تینوں افراد کو فوری طور پر ہر قسم کی کرکٹ سرگرمیوں سے عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے اور انہیں 11 مارچ 2026 سے 14 دن کے اندر الزامات کا جواب دینے کا موقع دیا گیا ہے۔
آئی سی سی کے مطابق یہ کارروائی ایک وسیع تحقیقات کا حصہ ہے، جس کے تحت اس سے قبل 28 جنوری کو امریکا کے کھلاڑی ایرون جونز پر بھی سی ڈبلیو آئی اور آئی سی سی کے اینٹی کرپشن کوڈ کی پانچ خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
آئی سی سی کا کہنا ہے کہ تادیبی کارروائی مکمل ہونے تک اس معاملے پر مزید تبصرہ نہیں کیا جائے گا۔
















