عیدالفطر: وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
“وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ“ اور اگر اس کی گہرائی کو اگر سمجھنا ہو تو عید کے دن کسی بھی گھر کا منظر دیکھ لیجیے۔ ایک عورت، جو بیک وقت کئی کردار نبھا رہی ہے، مگر اس کے چہرے پر اطمینان ہے، آنکھوں میں محبت ہے اور دل میں شکرگزاری۔ یہی وہ رنگ ہیں جو کائنات کو خوبصورت بناتے ہیں۔
عیدالفطر ایک مذہبی تہوار ہی نہیں بلکہ یہ ایک احساس کا نام ہے۔ ایک ایسا احساس جو گھروں کی دہلیز سے شروع ہو کر دلوں تک پھیل جاتا ہے۔ اس احساس کو اگر کوئی سب سے خوبصورت انداز میں شکل دیتا ہے تو وہ عورت ہے۔
رمضان کے چاند سے اختتام تک اور پھر جیسے ہی عید کا چاند نظر آتا ہے، گھروں میں ایک نئی روح دوڑ جاتی ہے۔ مگر اس روح کو ترتیب دینے والی، اسے سنوارنے والی اور اسے محسوس کرنے کے قابل بنانے والی ہستی ایک عورت ہی ہوتی ہے، جو بہن ہے، بیٹی ہے، ماں ہے بیوی ہے، غرض ہر روپ میں ایک رحمت ہے ایک روشنی ہے، جو گھروں کے ساتھ دلوں کو جگمگاتی ہے۔
جو مہینے بھررمضان کی مصروفیات کے بعد، جو ابھی ختم بھی نہیں ہوئی ہوتیں کہ عید کی تیاری سے لیکر چاند رات اور پھر عید کا دن کس کس طرح سجاتی ہے سنوارتی ہے، اور گھر کی کائنات میں خوبصورت رنگ بھر دیتی ہے۔
عورت جو عید کی خوشیوں کو ایک ترتیب دیتی ہے، کبھی باورچی خانے میں مصروف، کبھی بچوں کی تیاری میں، اور کبھی گھر کے ماحول کو خوشگوار بنانے میں۔ شاید اس کی مصروفیات بظاہرمعمولی لگتی ہوں، مگر درحقیقت یہی چھوٹے بڑے کام عید کو عید بناتے ہیں۔
عورت کا کردار صرف ایک منتظم کا نہیں بلکہ ایک جذباتی مرکز کا ہوتا ہے۔ عید کے دن بچوں کی خوشی اس کی آنکھوں میں جھلکتی ہے، بزرگوں کی دعائیں اس کے دل کو سکون دیتی ہیں، اور گھر والوں کی مسکراہٹیں اس کی محنت کا صلہ بن جاتی ہیں۔
وہ خود شاید تھک جاتی ہے، مگر اس کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ کسی اور کی خوشی میں کوئی کمی نہ آئے۔ یہی وہ بے لوث محبت ہے جو عید کے دن کو خاص بناتی ہے۔
عید کی تیاریوں میں جہاں کپڑوں، جوتوں، جیولری اور کھانوں کا ذکر ہوتا ہے، وہیں عورت کے لیے اپنی ذات کو سنوارنا بھی ایک اہم پہلو ہوتا ہے۔ یہ سنوارنا محض ظاہری نہیں بلکہ ایک باطنی خوشی کا اظہار بھی ہوتا ہے۔

عید کے دن گھر کے تمام افراد کے ساتھ ہی عورت کی تیاری بھی بلاشبہ بہت اہمیت کی حامل ہے۔ ناصرف کپڑے بلکہ جیولری کی چمک اور چوڑیوں کھنک ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس تناظر میں، جیولری محض زیور نہیں رہتی بلکہ ایک علامت بن جاتی ہے ، ایک ایسی علامت جو عورت کی شخصیت، اس کے ذوق اور اس کے جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک خوبصورت سا چوکر، ایک جوڑی جھمکے یا ہاتھوں میں سجی چوڑیاں، یہ سب اس کی ذات کے مختلف پہلوؤں کو نمایاں کرتے ہیں۔ مگر اصل خوبصورتی اس وقت سامنے آتی ہے جب یہ سب اس کے اعتماد کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔
موجودہ دور کی عورت ایک دلچسپ توازن کی حامل ہے۔ وہ روایت سے جڑی ہوئی بھی ہے اور جدیدیت کو اپنانا بھی جانتی ہے۔ عید کے دن وہ جھمکے بھی پہنتی ہے اور اسٹائلش رنگز بھی، وہ چوڑیاں بھی سجاتی ہے اور خوبصورت بریسلٹ بھی۔
گھر کے تناظر میں دیکھا جائے تو عید کا دن عورت کے بغیر ادھورا محسوس ہوتا ہے۔ صبح سویرے اٹھ کر سب کی تیاری میں مدد کرنا، شیر خرما اور کھانے بنانا۔ اس سب میں وہ اپنے لیے وقت شاید آخر میں نکالتی ہے، مگر جب وہ تیار ہو کر سامنے آتی ہے تو اس کی شخصیت میں ایک عجیب سا وقار اور سکون نظر آتا ہے، جیسے اس نے اپنے وجود سے پورے دن کو سنوار دیا ہو۔
ان تمام تیاریوں کے پیچھے دراصل وہ یہ پیغام دے رہی ہوتی ہے کہ وہ مرد یا گھر کا سربراہ، یا وہ ہستی جو دن رات کی محنت کے بعد اس گھر کے لیے خوشیوں کا سامان کرتی ہے، وہ ہستی کبھی شوہر کے روپ میں، کبھی باپ کی صورت میں اور کبھی بھائی کی شکل میں، عورت اس کی محنت کو سجا سنوار کر گھر میں خوشیوں کا رنگ بھر دے گی۔
یہ ایک خراجِ تحسین ہے اس مرد کے لیے جو رمضان میں تھکا دینے والے شیڈول کے باوجود محنت اور حوصلے سے ڈٹا رہتا ہے اور اہلِ خانہ کے لیے ہر روز ایک نے عزم کے ساتھ جاگتا ہے۔ عورت ہی وہ ہستی ہے جو اس کے کمائے ہوئے پیسوں سے کفایت اور سمجھداری سے گھر کو، بچوں کو اور خود کو جگمگا دیتی تاکہ وہ خوشی اور سکون محسوس کر سکے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ عورت کی خوشی براہِ راست اس کے گھر کے ماحول سے جڑی ہوتی ہے۔ اگر گھر میں محبت، احترام اور اپنائیت ہو تو اس کی مسکراہٹ خود بخود نکھر آتی ہے۔ عید جیسے مواقع پر یہ رشتہ اور بھی مضبوط ہو جاتا ہے۔ خاندان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانا، ایک دوسرے کو عیدی دینا، ہنسی مذاق کرنا، ماحول کو خوشگوار رکھنا، یہ سب لمحات عورت کے لیے کسی قیمتی خزانے سے کم نہیں ہوتے۔
یہ سچ ہے کہ عیدالفطر صرف ایک دن کی خوشی کا نام نہیں بلکہ ایک احساس ہے۔ ایک ایسا احساس جو ہمیں اپنے رشتوں کی قدر سکھاتا ہے، محبت بانٹنے کا ہنر دیتا ہے اور زندگی کی خوبصورتی کو محسوس کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اور اس تمام احساس کو اگر کوئی سب سے زیادہ خوبصورتی سے زندہ رکھتا ہے تو وہ عورت ہے۔
اس عید پر نہ صرف اس کی محنت کو سراہیں بلکہ اسے وہ مقام بھی دیں جس کی وہ حقدار ہے۔ ایک خوبصورت جملہ ، خوبصورت بات، تھوڑی سی اپنائیت سے اس کی محنت کوسراہنا آپ کے ذوق، تربیت اور اعلیٰ ظرفی کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ جب گھر کی عورت خوش ہوتی ہے تو صرف ایک گھر نہیں بلکہ پوری کائنات مسکراتی ہے۔
اس عید پر اس کی محنت کو سراہیں اور وہ مقام دیں جس کی وہ حقدار ہے۔ ایک خوبصورت جملہ، تھوڑی سی اپنائیت، اور یہ سب آپ کے ذوق، تربیت، محبت اور اعلیٰ ظرفی کا اظہار ہوگا۔ کیونکہ جب خاتونِ خانہ خوش ہو تو پورا گھر، بلکہ ساری کائنات مسکراتی ہے۔
















