ایران جنگ: عالمی منڈی میں خام تیل کی فی بیرل قیمت 113 ڈالر سے تجاوز
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں، جس کے بعد یورپ اور ایشیا کی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی دیکھنے میں آئی اور سرمایہ کاروں میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عالمی منڈیوں میں پیر کے روز شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جہاں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خدشات کے باعث اسٹاک مارکیٹیں دباؤ کا شکار رہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد ایران جنگ کے جلد خاتمے کی امیدیں کمزور پڑ گئیں، جس سے عالمی سرمایہ کاروں میں تشویش مزید بڑھ گئی۔
رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کے باعث عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں امریکی خام تیل کی قیمت یورپ میں پیر کی صبح 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
بین الاقوامی معیار برینٹ کروڈ کی قیمت بھی بڑھ کر 113 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی، جبکہ جنگ سے قبل یہ قیمت تقریباً 70 ڈالر فی بیرل تھی اور حالیہ دنوں میں 119.50 ڈالر تک بھی جا چکی ہے۔
یورپی اسٹاک مارکیٹوں میں کاروبار کا آغاز مندی کے ساتھ ہوا، لندن کا ایف ٹی ایس ای 1.5 فیصد، پیرس کا سی اے سی-40 1.6 فیصد اور فرینکفرٹ کا ڈی اے ایکس 2 فیصد تک گر گیا۔
یورپ میں قدرتی گیس کے فیوچرز کی قیمت بھی مارکیٹ کھلتے ہی 60 یورو فی میگا واٹ آور سے اوپر ٹریڈ کرتی دیکھی گئی، جو گزشتہ ہفتے کے اضافے کے تسلسل کا حصہ ہے۔
ایشیا میں بھی صورتحال مختلف نہ رہی، جاپان کا نکیئی 225 انڈیکس 3.5 فیصد، تائیوان کا ٹائیکس 2.5 فیصد، جنوبی کوریا کا کوسپی 6.5 فیصد، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 3.8 فیصد اور شنگھائی کمپوزٹ 3.6 فیصد گر گیا۔
ماہرین کے مطابق تیل کی بڑھتی قیمتوں نے امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ کمی کی توقعات کو بھی متاثر کیا ہے۔ جنگ سے قبل توقع کی جا رہی تھی کہ رواں سال کم از کم دو بار شرح سود میں کمی کی جائے گی، تاہم موجودہ صورتحال میں یہ امکانات کمزور ہو گئے ہیں۔
گزشتہ جمعہ کو بھی امریکی اسٹاک مارکیٹ دباؤ کا شکار رہی، جہاں ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 1.5 فیصد کمی کے ساتھ مسلسل چوتھے ہفتے مندی پر بند ہوا، جو ایک سال کی طویل ترین منفی لہر ہے۔















