برطانیہ میں کم عمر بچوں کے لیے اسکرین استعمال پر مکمل پابندی کی سفارش

حکام کے مطابق زیادہ اسکرین ٹائم نیند، کھیل اور ذہنی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔
شائع 27 مارچ 2026 05:18pm

برطانیہ نے بچوں کے اسکرین استعمال محدود کرنے کے لیے نئی قومی ہدایات جاری کر دیں، حکام کے مطابق زیادہ اسکرین ٹائم نیند، کھیل اور ذہنی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔

برطانی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برطانیہ نے بچوں کے اسکرین ٹائم کو محدود کرنے کے لیے نئی قومی ہدایات جاری کرتے ہوئے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ دو سال سے کم عمر چوں کو اسکرین سے مکمل دور رکھا جائے، جب کہ دو سے پانچ سال کے بچوں کے لیے اس کا استعمال روزانہ ایک گھنٹے تک محدود رکھا جائے۔

حکام کا کہنا ہے کہ طویل وقت تک اکیلے اسکرین استعمال کرنے سے بچوں کی نیند متاثر ہوتی ہے اور یہ کھیل کود اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی کا باعث بنتا ہے۔

دنیا بھر کی حکومتیں بچوں کے آن لائن استعمال سے متعلق قوانین سخت کرنے کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ فرانس، ڈنمارک اور نیدرلینڈز جیسے ممالک نے ذہنی صحت، سائبر بُلنگ اور نقصان دہ مواد تک رسائی کے خدشات کے پیش نظر نئی پابندیوں اور عمر کی تصدیق کے اقدامات پر زور دیا ہے۔

برطانیہ کی جانب سے جاری کردہ یہ ہدایات ٹیبلٹ، ٹی وی، لیپ ٹاپ اور اسمارٹ فونز کے استعمال سے متعلق اب تک کا سب سے واضح حکومتی مؤقف ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ والدین کو اب تک اس معاملے میں اکیلا چھوڑ دیا گیا تھا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں تین سے پانچ سال کے بچوں کے والدین میں سے ایک چوتھائی نے اعتراف کیا کہ انہیں بچوں کے اسکرین ٹائم کو کنٹرول کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں، جب کہ تقریباً 98 فی صد دو سالہ بچے روزانہ اسکرین استعمال کرتے ہیں۔

ہدایات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کھانے کے اوقات اور سونے سے ایک گھنٹہ قبل اسکرین کے استعمال سے گریز کیا جائے اور بچوں کو ان کی عمر کے مطابق سادہ اور آہستہ رفتار مواد دکھایا جائے۔ والدین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر اسکرین استعمال کریں تاکہ ان کی زبان اور سماجی مہارتوں کی نشوونما میں مدد ملے۔

وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ حکومت والدین کو اس چیلنج میں تنہا نہیں چھوڑے گی اور تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی کے دور میں واضح اور قابل عمل رہنمائی فراہم کرنا ضروری ہے۔

ماہرین کی ایک کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ کم عمر بچوں کو تیز رفتار سوشل میڈیا ویڈیوز اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے کچھ کھلونوں سے دور رکھا جائے، تاہم خصوصی تعلیمی ضروریات رکھنے والے بچوں کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی پر مکمل پابندی عائد نہ کی جائے۔

ادھر برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک بڑے بچوں کے لیے کبھی آن لائن تحفظ کے اقدامات پر غور کر رہے ہیں، جن میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر کی حد، رات کے اوقات میں پابندیاں اور اے آئی چیٹ بوٹس کے استعمال پر پابندی شامل ہیں۔

مزید برآں، امریکا میں ایک جیوری نے حال ہی میں میٹا اور گوگل کو ایک مقدمے میں غفلت کا مرتکب قرار دیا، جس میں الزام تھا کہ ان کے پلیٹ فارمز کی کچھ خصوصیات نے ایک کم عمر صارف کو نقصان پہنچایا اور یہ فیصلہ مستقبل میں ایسے مزید مقدمات کو متاثر کر سکتا ہے۔