ایران کی اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز کی بارش، نیا حملہ پاکستانی عوام کے نام کردیا
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی، ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کا تبادلہ شدت اختیار کر گیا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب اسلامی انقلابی گارڈ کور نے اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز کی شدید بارش کرتے ہوئے آپریشن وعدہ صادق چار کی 83ویں لہر شروع کر دی، جسے پاکستان، جرمنی اور اسپین کے عوام کے نام کیا گیا۔
ایرانی فوج کی جانب سے میزائلوں پر اظہارِ تشکر کے کلمات بھی تحریر کیے گئے، جبکہ مقامی میڈیا نے اس حوالے سے ویڈیوز بھی جاری کر دیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق حملوں میں امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، اشدود میں تیل کے ذخیرے اور اسٹوریج ٹینک تباہ کر دیے گئے۔
اسرائیلی شہر کریات میں ایک گاڑی جل کر خاکستر ہو گئی، جبکہ کفر قاسم میں میزائل حملے کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے۔ شمالی شہر نہاریہ میں بھی تباہی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایرانی کارروائیوں کا دائرہ خلیجی خطے تک بھی پھیل گیا، جہاں الظفرہ، العدیری اور علی السلم ایئر بیس سمیت امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔
حملوں میں ٹرانسپورٹ طیاروں، ڈرونز کے ہینگرز اور جیٹ فیول ٹینک کو نقصان پہنچا، جبکہ شیخ عیسیٰ بیس پر پیٹریاٹ میزائل سسٹم کا مرمتی ہینگر بھی تباہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب بحریہ نے آبنائے ہرمز میں تین بحری جہازوں کو وارننگ دے کر واپس بھیج دیا، جبکہ خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کے قریب رہنے والے افراد کو فوری انخلا کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے بھی ایران کی حمایت میں اسرائیل پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق حزب اللہ نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیل پر 103 حملے کیے۔
ان حملوں میں دیر سریان کے راستے اور طیبہ کو قنطرہ سے ملانے والی سڑک کو تباہ کیا گیا، اسرائیلی بکتر بند گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ گلیلی کے علاقے میں میزائلوں کی بارش کے باعث میسکاف عام بستی میں سائرن بجنے لگے۔
ادھر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے بھی جاری ہیں۔ رہائشی علاقوں پر بمباری کے نتیجے میں مزید 34 شہری شہید ہو گئے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اصفہان میں 7 خواتین اور 7 بچوں سمیت 26 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ قم میں 18 افراد شہید ہوئے۔
چار ہفتوں سے جاری بمباری میں شہید ہونے والوں کی تعداد 1937 تک پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق خورستان اور اصفہان میں دو اسٹیل پلانٹس بھی تباہ کر دیے گئے ہیں۔
تہران میں اسرائیلی طیاروں نے پاکستانی سفارتخانے کے اطراف بھی شدید بمباری کی، تاہم حملے میں پاکستانی سفیر اور سفارتی عملہ محفوظ رہا۔
صورتحال کے پیش نظر خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور عالمی برادری فوری جنگ بندی کے لیے متحرک ہونے پر زور دے رہی ہے۔












