امریکا اور اسرائیل ایرانی میزائلوں کا ذخیرہ مکمل تباہ کرنے میں ناکام رہے: رائٹرز کا دعویٰ

ایران نے اپنی کچھ صلاحیت جان بوجھ کر محفوظ رکھی ہوگی اور وہ اس طاقت کو مکمل استعمال نہیں کر رہا: سیٹھ مولٹن
شائع 28 مارچ 2026 09:24am

برطوانی خبر رساں ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل گزشتہ ایک ماہ سے جاری مسلسل حملوں کے باوجود ایران کے میزائلوں کا ذخیرہ مکمل طور پر تباہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکا ایران کے میزائل ذخیرے کا صرف تقریباً ایک تہائی حصہ ہی مکمل طور پر تباہ کرنے کی تصدیق کرسکا ہے، جبکہ باقی صلاحیت کے بارے میں واضح تصویر سامنے نہیں آ سکی ہے۔

رائٹرز نے امریکی انٹیلی جنس سے واقف ذرائع کے حوالے سے کہا کہ ایران کے ایک تہائی میزائل یا تو بمباری سے متاثر ہوئے ہیں یا زیر زمین سرنگوں اور بنکروں میں دب گئے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی درست حالت کا اندازہ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔

اسی طرح ایران کے ڈرون پروگرام کے بارے میں بھی یہی صورتحال بتائی جا رہی ہے کہ کچھ حد تک نقصان کا اندازہ ہے مگر مکمل تفصیل واضح نہیں۔

یہ صورتحال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان سے مختلف نظر آتی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے پاس اب بہت کم میزائل باقی رہ گئے ہیں۔

تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ معمولی تعداد میں باقی رہ جانے والے میزائل بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، خاص طور پر خلیج کے اہم بحری راستے آبنائے ہرمز کے تحفظ کے حوالے سے۔

امریکی محکمہ دفاع کے حکام کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں میں تقریباً 90 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ امریکہ کی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی میزائل، ڈرون اور بحری پیداوار سے متعلق 66 فیصد سے زائد تنصیبات کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ہزاروں فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے اور ایران کی بحریہ کے بڑے جہازوں کا بڑا حصہ تباہ کرنے کی بات کی گئی ہے۔

دوسری جانب ماہرین اور بعض امریکی سیاست دان ان دعوؤں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

امریکی کانگریس کے رکن سیٹھ مولٹن کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے دانشمندی سے کام لیا ہے تو اس نے اپنی کچھ صلاحیت جان بوجھ کر محفوظ رکھی ہوگی اور وہ اس طاقت کو مکمل استعمال نہیں کر رہا۔

اس جنگ کے دوران ایران نے بھی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ جاری رکھا ہے۔

حالیہ دنوں میں ایران نے متحدہ عرب امارات پر متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے پاس اب بھی قابل ذکر عسکری طاقت موجود ہے۔

اس کے علاوہ ایران نے پہلی بار طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کرتے ہوئے بحر ہند میں واقع ایک فوجی اڈے ڈئیگو گارسیا کو بھی نشانہ بنایا۔

ماہرین کے مطابق ایران کی سب سے بڑی طاقت اس کا زیر زمین نظام ہے جہاں اس نے درجنوں بڑی تنصیبات اور سرنگیں قائم کر رکھی ہیں۔

ان سرنگوں میں میزائل اور لانچر محفوظ رکھے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں مکمل طور پر تباہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

امریکی حکام بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ انہیں خود بھی ایران کے اصل میزائل ذخیرے کا مکمل اندازہ نہیں اور ممکن ہے کہ درست تعداد کبھی معلوم نہ ہو سکے۔

اس جنگ کا بنیادی مقصد امریکا کے مطابق ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنا، اس کے میزائل اور ڈرون پروگرام کو ختم کرنا اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔

تاہم موجودہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ ایران کو نقصان ضرور پہنچا ہے، لیکن اس کی مکمل عسکری طاقت ختم نہیں ہوئی ہے۔