تہران میں شدید دھماکے، ایران کے خلیجی ممالک میں صنعتی تنصیبات پر حملے
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اب اپنے دوسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے اور اس کے دائرہ کار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اتوار کے روز متحدہ عرب امارات اور بحرین میں ایلومینیم کے بڑے کارخانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں کئی افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بحرین اور متحدہ عرب امارات میں ہوئے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارخانے خطے میں امریکی فوج اور خلائی شعبے سے وابستہ تھے۔
ابوظہبی میں ہونے والے حملے میں چھ ملازمین زخمی ہوئے جبکہ بحرین میں دنیا کے بڑے ایلومینیم پیدا کرنے والے پلانٹ پر حملے میں دو افراد کو معمولی چوٹیں آئیں۔
دوسری جانب اسرائیل اور امریکا نے ایران کے اندر مختلف مقامات پر حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔
ایرانی صوبے ہرمزگان میں ایک بندرگاہ پر ہونے والے حملے میں پانچ افراد کے جاں بحق اور چار کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے، جہاں دو بحری جہازوں اور ایک گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔
اسی طرح ایران کے شہر شفت کے قریب ایک رہائشی علاقے پر حملے میں ایک شخص جاں بحق اور پانچ زخمی ہوئے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے تہران سمیت ایران کے مختلف حصوں میں ہتھیاروں کے گوداموں اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنا کر حملوں کی ایک نئی لہر مکمل کر لی ہے۔
تہران اور قریبی شہر کرج میں ہفتے کی صبح زوردار دھماکے سنے گئے اور پہاڑی علاقوں سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا، تاہم ابھی تک ان اہداف کی مکمل تفصیلات واضح نہیں ہو سکی ہیں۔
لبنان کے محاذ پر بھی کشیدگی برقرار ہے جہاں حزب اللہ نے شمالی اسرائیل کے علاقوں متولہ اور شتول سمیت گولان کی پہاڑیوں میں اسرائیلی فوجی اڈوں پر راکٹوں اور ڈرونز سے حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں جاری لڑائی کے دوران اپنے ایک فوجی کی ہلاکت اور تین کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
اسرائیل اس علاقے میں زمینی کارروائی کو وسعت دے رہا ہے تاکہ سرحدی پٹی پر ایک بفر زون قائم کیا جا سکے۔
دوسری جانب ایرانی قیادت بشمول پارلیمنٹ کے اسپیکر اور وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ دشمن نے ان کی طاقت کا غلط اندازہ لگایا تھا۔
ان کے بقول اسرائیل اور امریکا کا خیال تھا کہ چند دنوں کی بمباری اور قیادت کو نشانہ بنانے کے بعد ایران ہتھیار ڈال دے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔
ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ جنگ کے دوسرے مہینے میں داخل ہونے کے باوجود ان کی میزائل اور ڈرون طاقت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یمن کے حوثی باغیوں کی شمولیت، حزب اللہ کی مزاحمت اور آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول اس بات کی علامت ہے کہ وہ شکست کھانے والے نہیں، بلکہ اب امریکا اور اسرائیل مذاکرات کے لیے راستہ تلاش کر رہے ہیں۔













