تیل امریکا سے خریدیں یا ہرمز سے جا کر لیں: ٹرمپ کا برطانیہ اور دیگر ممالک کو پیغام

امریکی صدر نے برطانیہ سمیت ممالک کو خود انحصاری کا مشورہ دے دیا۔
اپ ڈیٹ 31 مارچ 2026 06:40pm

آبنائے ہرمز کی صورت حال اور تیل کی عدم فراہمی پر امریکی صدر نے برطانیہ سمیت دیگر ممالک سے کہا ہے کہ جیٹ فیول نہ ملنے والے ممالک کو چاہیے کہ وہ خود اپنی توانائی ضروریات کا انتظام کریں، امریکا اب مدد نہیں کرے گا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ممالک جو آبنائے ہرمز کی موجودہ کشیدہ صورت حال کی وجہ سے جیٹ فیول حاصل نہیں کر پا رہے، جیسے برطانیہ، انہیں چاہیے کہ وہ یا تو امریکا سے تیل خریدیں یا خود اس خطے میں جا کر اپنے مفادات اور توانائی ضروریات کا تحفظ کریں۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اب دیگر ممالک کی مدد کے لیے پہلے کی طرح حاضر نہیں رہے گا اورعالمی توانائی کے امور میں ہر ملک کو اپنی حفاظت اور توانائی ضروریات کے لیے خود قدم اٹھانا ہوں گے۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حالیہ تنازعات میں ایران کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے اور خطے میں صورت حال اب انتہائی حساس مرحلے پر پہنچ چکی ہے۔

امریکی صدر نے اپنے سوشل پلیٹ فارم پر فرانس پر بھی تنقید کی، انھوں نے کہا کہ فرانس نے اسرائیل کے لیے فوجی ساز و سامان لے جانے والے طیاروں کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت نہیں دی، فرانس ایرانی قصاب کے معاملے میں غیر مددگار ثابت رہا۔

صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا اس رویے کو یاد رکھے گا اور آئندہ دیگر ممالک کی مدد کے لیے ویسے موجود نہیں ہوگا جیسا کہ وہ توقع رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ان ممالک کو اب اپنی حفاظت اور توانائی ضروریات کے لیے خود قدم اٹھانا ہوں گے کیونکہ امریکا خود مداخلت نہیں کرے گا۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ جنگ میں متعدد ممالک نے براہِ راست شمولیت یا اپنی سرزمین استعمال کرنے سے انکار کیا تھا۔ ان ممالک میں اسپین، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، ہالینڈ، کینیڈا، فن لینڈ، لکسمبرگ، یونان، آسٹریلیا، سری لنکا سمیت دیگر شامل ہیں۔ ان ممالک نے واضح کیا کہ وہ ایران پر کسی بھی قسم کے حملوں میں شریک نہیں ہوں گے۔

رپورٹس کے مطابق، بیشتر عرب ممالک نے بھی اس جنگ میں حصہ نہ لینے کی پالیسی اپنائی۔ ان ممالک نے غیر جانبداری برقرار رکھنے، مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے اور خطے میں جنگ کے پھیلاؤ اور اپنی تیل کی تنصیبات کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس فوجی تنازع سے دور رہنے کو ترجیح دی۔