ایران کا اسرائیل کے ایئرپورٹ پر ری فیولنگ، آواکس طیاروں پر حملے کا دعویٰ
ایرانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کی فوج نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی عسکری تنصیبات، آواکس طیاروں اور ری فیولنگ جہازوں کے مقامات پر سو سے زائد میزائل اور ڈرونز داغے ہیں۔ ان حملوں میں دو ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے جدید ’آرش ٹو‘ ڈرون بھی استعمال کیے گئے۔
ایران کی اسلامی جمہوریہ کی فوج نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت اور امریکا کی جانب سے ایران پر کیے گئے فضائی حملوں، خصوصاً شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے بعد، ایرانی فوج نے صبح سے جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
ایرانی فوج کے مطابق ان کارروائیوں میں دشمن کے اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں اسرائیل کے تل ابیب، ایلات اور بنی براک میں فوجی مراکز، بن گوریون ایئرپورٹ پر موجود امریکی آواکس اور ری فیولنگ طیارے، میزائل اور ڈرون کی نگرانی کرنے والے ریڈار نظام، اور اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں ڈرون کے خلاف استعمال ہونے والے الیکٹرانک جنگی مراکز شامل ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس سے قبل بھی ایرانی فوج خطے میں امریکی اڈوں اور مقبوضہ علاقوں میں فوجی تنصیبات کو ڈرون حملوں کے ذریعے نشانہ بنا چکی ہے۔ سیٹلائٹ نگرانی اور دستیاب معلومات کے مطابق ان حملوں سے متعلقہ مراکز کو شدید نقصان پہنچا، جس سے فوجی کارروائیوں، فضائی مدد اور میزائل و ڈرون کی نگرانی کی صلاحیت متاثر ہوئی۔
ایرانی فوج نے مزید کہا کہ اس حملے میں دو ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے جدید ’آرش ٹو‘ ڈرون بھی استعمال کیے گئے۔ بیان کے مطابق ایرانی فوج کے تمام اہلکار بے گناہ شہریوں کی ہلاکت کا بدلہ لینے اور دشمن کو اس کے اقدامات پر پچھتانے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
ایران کی ہلالِ احمر نے ملک میں حالیہ حملوں کے بعد شہری انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق تازہ تفصیلات جاری کی ہیں۔ ہلالِ احمر کے مطابق حالیہ حملوں میں ایک لاکھ پندرہ ہزار سے زائد شہری یونٹس متاثر یا مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جن میں رہائشی عمارتیں، طبی مراکز، تعلیمی ادارے اور امدادی مراکز شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ عمارتوں کا ایک بڑا حصہ تہران صوبے میں واقع ہے، جہاں حملوں کے باعث خاصا نقصان ہوا۔ ہلالِ احمر نے مزید بتایا کہ امدادی کارروائیوں کے دوران اب تک کم از کم ایک ہزار پانچ سو چھبیس افراد کو ملبے سے زندہ نکالا جا چکا ہے۔
دریں اثنا، ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بھی دعویٰ کیا کہ حالیہ حملوں میں سو سے زائد بھاری میزائل اور حملہ آور ڈرون استعمال کیے گئے، جب کہ اس کے ساتھ کم از کم دو سو راکٹ بھی فائر کیے گئے۔ بیان کے مطابق یہ حملے ایران کی جانب سے کیے گئے، جن میں اس کے اتحادی گروہوں کی حمایت بھی شامل تھی۔
اس کے علاوہ خلیجی خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو بھی ہدف بنایا گیا، جن میں بحرین میں امریکی افواج کا ایک مرکز اور کویت کے العدری بیس پر موجود امریکی ہیلی کاپٹر یونٹ شامل ہیں، جہاں ایک ہیلی کاپٹر تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔
ایران کے مطابق متحدہ عرب امارات میں ڈرون روکنے اور جنگی نظام سے متعلق مقامات پر بھی حملے کیے گئے، تاہم اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب الجزیرہ کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے پانچ بیلسٹک میزائل اور پینتیس ڈرون مار گرائے۔
وزارت کے مطابق جاری جنگ کے دوران اب تک ایران کے مجموعی طور پر چار سو اڑتیس میزائل اور دو ہزار بارہ ڈرون تباہ کیے جا چکے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔













