چاند پر جانے والے 28 خلابازوں میں سے کتنے اس کی سطح پر قدم رکھ پائے؟

چاند کی تسخیر: اپالو سے آرٹیمس 2 تک کا تاریخی سفر
شائع 02 اپريل 2026 04:03pm
اپالو 10 کی ایک تصویر- بشکریہ ناسا
اپالو 10 کی ایک تصویر- بشکریہ ناسا

ناسا اپنے نئے خلائی مشن ’آرٹیمس 2‘ کا آغاز کر چکا ہے، اور انسان ایک بار پھر خلا کی وسعتوں کو تسخیر کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس ٹیم میں چار خلاباز شامل ہیں۔ یہ ٹیم چاند کے گرد چکر لگا کر 11 اپریل کو واپس زمین پر پہنچے گی۔ اس مشن کا مقصد چاند پر انسانی قدم جمانے کی راہ ہموار کرنا ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اب تک کتنے انسان چاند تک پہنچے اور کتنے اس کی سرزمین پر اترنے میں کامیاب ہوئے؟

ماضی میں 1968 سے 1972 کے درمیان ناسا نے مجموعی طور پر 09 انسانی مشن چاند کی طرف بھیجے تھے۔ ان مشنز کے دوران 24 خلابازوں کو زمین سے چاند کے مدار تک لے جایا گیا تھا اور ’آرٹیمس 2‘ کے چار ارکان کو ملا کر اب یہ تعداد 28 ہو گئی ہے۔ تاہم، حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ ان 28 میں سے صرف 12 خوش نصیب ایسے تھے جنہوں نے حقیقت میں چاند کی سرزمین پر قدم رکھا۔ باقی خلاباز یا تو مدار میں رہے یا تکنیکی وجوہات کی بنا پر سطح پر نہ اتر سکے۔

چاند کے مدار کی پہلی جھلک: اپالو 8 اور 10

چاند کی جانب پہلا انسانی سفر ’اپالو 8‘ کے ذریعے دسمبر 1968 میں شروع ہوا۔ اس مشن میں فرینک بورمین، جم لوول اور ولیم اینڈرس نے پہلی بار چاند کے گرد چکر لگائے اور وہاں سے زمین کے طلوع ہونے کا یادگار منظر دیکھا۔

اس کے بعد مئی 1969 میں ’اپالو 10‘ کو ایک ”ڈریس ریہرسل“ کے طور پر بھیجا گیا، جس نے چاند پر اترنے کے تمام مراحل کی جانچ کی لیکن خود سطح پر لینڈنگ نہیں کی۔

تاریخ ساز لینڈنگ: اپالو 11 اور 12

20 جولائی 1969 وہ دن تھا جب نیل آرمسٹرانگ نے ’اپالو 11‘ مشن کے دوران چاند پر پہلا انسانی قدم رکھا اور اسے انسانیت کے لیے ایک بڑی چھلانگ قرار دیا۔ ان کے ساتھ بز ایلڈرن بھی سطح پر اترے جبکہ مائیکل کولنز مدار میں رہے۔

اس کے فوراً بعد نومبر 1969 میں ’اپالو 12‘ نے چاند کے ’اوشن آف اسٹورم‘ نامی مقام پر انتہائی درست لینڈنگ کی اور سائنسی تجربات کے لیے نمونے اکٹھے کیے۔

ناکامیاں اور کامیابیاں: اپالو 13 سے 17 تک

چاند کے سفر میں ’اپالو 13‘ ایک ایسا مشن تھا جو آکسیجن ٹینک میں دھماکے کی وجہ سے لینڈنگ نہ کر سکا، لیکن عملے کی بحفاظت واپسی نے اسے ناسا کی کامیاب ترین ناکامی بنا دیا۔

بعد ازاں ’اپالو 15‘ نے پہلی بار چاند پر گاڑی کا استعمال کیا، جس سے خلابازوں کو طویل فاصلہ طے کرنے میں مدد ملی۔ اپالو 16 نے چاند کے پہاڑی علاقوں کی خاک چھانی، اور آخر کار دسمبر 1972 میں ’اپالو 17‘ اس سلسلے کا آخری مشن ثابت ہوا، جس میں ہیریسن شمٹ پہلے جیولوجسٹ کے طور پر چاند پر گئے۔

آرٹیمس 2: ایک نیا عہد

آرٹیمس 2 مشن میں ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈین خلاباز جیریمی ہینسن شامل ہیں۔ اگرچہ یہ عملہ چاند پر لینڈنگ نہیں کرے گا اور صرف اس کے گرد چکر لگا کر واپس آئے گا، لیکن یہ مشن مستقبل میں مریخ تک پہنچنے کے انسانی خواب کی پہلی سیڑھی ہے۔ اس طرح چاند پر قدم رکھنے والے 12 انسانوں کا ریکارڈ فی الحال برقرار رہے گا، مگر خلائی تحقیق کا یہ نیا باب ایک نئی تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار ہے۔