ایران میں موت کو شکست کی کوشش: امریکی پائلٹس زندہ بچنے کے لیے کیا طریقہ اپنا سکتے ہیں؟
ایران کے خلاف جنگ میں امریکی پائلٹس زندہ بچنے کے لیے مختلف طریقے اپناتے ہیں جس کے لیے انہیں کئی ایم گیجٹس فراہم کیے جاتے ہیں۔
حال ہی میں ایران میں امریکا کے ایف- 15 ای کے گرنے کے واقعہ پیش آیا جس میں ایک پائلٹ زندہ بچ گیا جبکہ دوسرا لاپتہ ہے۔
ایسے حالات میں پائلٹ کی بقا امریکی فضائیہ کے جدید تکنیکی اور تربیتی نظام پر منحصر ہوتی ہے، جو خطرناک جنگی حالات میں ان کے زندہ رہنے اور ریسکیو ہونے کے امکانات بڑھاتا ہے۔
امریکی فضائیہ نے ایسے ہائی رسک حالات کے لیے ایک جامع اور جدید سروائیول سسٹم تیار کیا ہے، جو ٹیکنالوجی، حکمت عملی اور سخت تربیت کا مجموعہ ہے۔
یہ نظام پائلٹس کو دشمن علاقے میں ایجیکٹ ہونے کے بعد زندہ رہنے، دشمن سے بچنے اور ریسکیو ٹیم تک پہنچنے کے لیے مکمل تیاری فراہم کرتا ہے۔
یہ نظام صرف ایک کٹ تک محدود نہیں ہوتا بلکہ کئی مرحلوں پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں ایجیکشن سیٹ کے نیچے نصب سروائیول کٹ، پائلٹ کے لباس کے ساتھ سروائیول ویسٹ اور ہیلمٹ، ریڈیوز اور ہتھیار شامل ہوتے ہیں۔ یہ سب چار اہم اصولوں پر مرکوز ہیں، زندہ رہنا، بچ کر نکلنا، ریسکیو اور دشمن سے بچنا۔
پائلٹس کو سخت حالات میں برداشت کرنے، دشمن سے بچنے، قید سے بچنے اور ریسکیو ٹیم تک پہنچنے کے لیے تربیت دی جاتی ہے، جس میں نہ کہ صرف سازوسامان پر بلکہ لچکدار فیصلہ سازی پر زور دیا جاتا ہے۔
سب سے اہم جزو سروائیول کٹ ہے جو پیراشوٹ کے ساتھ خود بخود کھلتی ہے اور زمین پر پائلٹ کی زندگی کا سہارا بنتی ہے۔ اس میں کمیونیکیشن اور نیویگیشن آلات نصب ہوتے ہیں۔ سروائیول ریڈیو پائلٹس کو ریسکیو ٹیمز سے رابطے میں رکھتا ہے، جبکہ کمپاس، سگنل آئینے اور جی پی ایس بیکن پائلٹس کو اپنی جگہ معلوم کرنے اور منتقل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
یہ آلات خاص طور پر پہاڑوں یا جنگلات جیسے خطرناک علاقوں میں انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایران میں لاپتہ پائلٹ غالباً زاگرس پہاڑوں میں ہے، جہاں ایرانی فورسز اور ممکنہ ریسکیو ٹیمیں تلاش میں ہیں۔
سروائیول کٹ میں فلیرز، سموک بمب، سٹروب لائٹس اور گلو اسٹکس بھی شامل ہوتی ہیں جو پائلٹ کی موجودگی خاص طور پر کم روشنی یا رات کے وقت ریسکیو ٹیمز کے لیے واضح کرتی ہے۔
بقا صرف دشمن سے بچنے تک محدود نہیں بلکہ خوراک اور پانی کی ضروریات بھی پوری کرنا شامل ہے۔ کٹ میں پانی کے پیکٹس، صاف کرنے کی گولیاں اور ہائی انرجی ایمرجنسی فوڈ پیک شامل ہوتے ہیں جو تین سے سات دن کے لیے کافی کیلوریز فراہم کرتے ہیں اور طویل عرصے تک توانائی برقرار رکھتے ہیں۔
ایجیکشن یا کریش لینڈنگ کے دوران زخمی ہونے کی صورت میں ابتدائی طبی امداد کے لیے بینڈیجز (مرہم پٹیاں) اور ٹورنیکیٹس بھی سروائیول کٹ میں موجود ہوتے ہیں۔
شدید موسم سے بچاؤ کے لیے تھرمل بلینکٹ، پونچوز(خود کو ڈھانپنے کے لیے ڈھیلا لباس) اور آگ جلانے کے آلات بھی شامل ہوتے ہیں، جو جسمانی حرارت برقرار رکھنے، بارش اور ہوا سے تحفظ اور حرارت یا روشنی کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
اگر پائلٹ پانی میں ایجیکٹ کرے تو کٹ میں انفلیٹ ایبل لائف رافٹ اور سی ڈائی نامی کیمیکل شامل ہوتا ہے جو پانی میں پھیل کر فضائی ریسکیو کے لیے پائلٹ کو نمایاں کرتا ہے۔
جبکہ پائلٹس کا بنیادی ہدف دشمن سے بچنا ہے، خود دفاع کے لیے پستول یا کمپیکٹ سروائیول رائفل بھی دستیاب ہوتی ہے، تاہم ان کا استعمال آخری حد کے طور پر کیا جاتا ہے۔
اس نظام کو مشن اور ماحول کے مطابق ترتیب دیا جا سکتا ہے، جیسے خلائی مشن میں اضافی انسولیشن، صحرائی آپریشن میں پانی اور سورج سے حفاظت، اور بحری مشن میں سمندری آلات ہوتی ہیں۔ اس لچکدار ڈیزائن کی بدولت یہ نظام مختلف ماحول میں مؤثر رہتا ہے۔














