چاند کے مدار میں ’آرٹیمس ٹو‘ کے خلا نوردوں کی روزمرہ زندگی کیسی ہے؟
ناسا کے تاریخی مشن ”آرٹیمس ٹو“ مشن کے تحت چاند کے مدار میں دس روزہ سفر پر نکلے چار خلابازوں کی زندگی زمین سے جتنی دور ہے، ان کے مسائل اتنے ہی زمین جیسے ہیں۔
ایک چھوٹی پک اپ ٹرک جتنے تنگ ”اورین“ کیپسول میں مقیم یہ عملہ جہاں کائنات کے اسرار دیکھ رہا ہے، وہیں ای میل کے مسائل حل کرتا ہے اور خراب بیت الخلا بھی درست کرتا ہے۔
خلاباز کرسٹینا کوک کے مطابق، اس مشن کی تیاری کسی پہاڑی مقام پر کیمپنگ جیسی ہے۔ عملے کے پاس 58 پن کیک، 43 کپ کافی، بروکولی، روسٹ بیف اور پانچ قسم کی تیز چٹنیوں کا ذخیرہ موجود ہے۔ کینیڈین خلاباز کی موجودگی کی وجہ سے مشہور ’میپل سیرپ‘ بھی مینو کا حصہ ہے۔
ماضی کے ”اپالو“ مشنز کے برعکس، جہاں خلاباز رفع حاجت کے لیے صرف تھیلوں کا استعمال کرتے تھے، آرٹیمس میں باقاعدہ بیت الخلا موجود ہے۔ تاہم، سفر کے پہلے 24 گھنٹوں میں ہی بیت الخلا خراب ہو گیا، جس کی مرمت کرسٹینا کوک نے کی۔
انہوں نے فخریہ انداز میں خود کو ”خلائی پلمبر“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جہاز کا سب سے اہم حصہ ہے جس کے ٹھیک ہونے پر سب نے سکھ کا سانس لیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بیت الخلا کا شور اتنا زیادہ ہے کہ اسے استعمال کرتے وقت ہیڈ فون لگانا پڑتے ہیں۔ جیریمی ہینسن نے بتایا کہ یہ واحد جگہ ہے جہاں تھوڑی دیر کے لیے تنہائی ملتی ہے۔
کششِ ثقل کی عدم موجودگی میں سونا بھی ایک مرحلہ ہے۔ خلابازوں نے دیواروں کے ساتھ سلیپنگ بیگز لٹکا رکھے ہیں تاکہ وہ سوتے میں تیرتے تیرتے جہاز کے آلات سے نہ ٹکرائیں۔
مشن کمانڈر ریڈ وائز مین نے بتایا کہ کرسٹینا اکثر چمگادڑ کی طرح الٹی لٹک کر سوتی ہیں، جو کہ خلا میں کافی آرام دہ پوزیشن ہے۔
اس کے علاوہ، عملے کو ای میلز کے مسائل بھی پیش آئے جسے ہیوسٹن کے زمینی مرکز سے آن لائن حل کیا گیا۔
آرٹیمس ٹو 1972 کے بعد پہلا انسانی مشن ہے جو چاند کے قریب جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ چاند کی سطح پر نہیں اترے گا، لیکن یہ 2027 میں ہونے والے ”آرٹیمس 3“ مشن کی بنیاد رکھے گا جس میں پہلی خاتون اور پہلا غیر سفید فام شخص چاند پر قدم رکھیں گے۔
ناسا نے پہلی بار خلابازوں کو ذاتی سمارٹ فونز لے جانے کی اجازت دی ہے تاکہ وہ نجی لمحات محفوظ کر سکیں اور دنیا کے ساتھ براہِ راست تصاویر شیئر کر سکیں۔
خلا میں پٹھے کمزور ہونے سے بچنے اور جسمانی ٖفنس کے لیے عملہ روزانہ آدھا گھنٹہ خصوصی آلات پر ورزش کرتا ہے۔
اس مشن میں وکٹر گلوور چاند کے مدار کا سفر کرنے والے پہلے سیاہ فام شخص، جبکہ جیریمی ہینسن پہلے غیر امریکی کینیڈین خلاباز بن گئے ہیں۔
اربوں ڈالر کی لاگت والے اس مشن اور چین کے ساتھ جیوپولیٹیکل مقابلے کے باوجود انسانی تجسس اور خوشی غالب ہے۔
وکٹر گلوور کا کہنا ہے کہ ”پیشہ ورانہ مہارت اپنی جگہ، لیکن چاند کو اتنا قریب دیکھ کر میرے اندر کا بچہ خوشی سے چیخنا چاہتا ہے۔“ جیریمی ہینسن نے کہا، ”میں خود کو دوبارہ بچہ محسوس کر رہا ہوں۔“
زمین سے لاکھوں میل دور بھی خلاباز کھانے، سونے، مسائل حل کرنے اور منظر دیکھنے کے معمولات کے ذریعے یہ دکھا رہے ہیں کہ خلاء میں زندگی زمین کی طرح ہی ہے۔















